تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 45 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 45

۴۵ نفوذ بڑھنے لگا اور سعید رو میں حق و صداقت قبول کرنے لگیں تو انہوں نے ماہ مارچ 1 ء میں سرکاری حلقوں سے گٹھ جوڑ کر کے تبلیغ اسلام پر پابندی لگوا دی لیہ پاکستانی سفارت خانہ کی طرف سے ۲۶ مارچ شکار کو اس کی اطلاع بھی پہنچ گئی۔اس افسوسناک اور رنجیدہ اقدام کی تفصیل مولوی کریم الھی صاحب ظفر کے قلم سے لکھی جاتی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں :۔ماہ مارچ کے شروع میں ایک روز صبح سفارت پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری مسٹر افضل اقبال نے مجھے بلا کر کہا کہ ہسپانوی حکومت آپ کی طرف سے لوگوں کو قبول اسلام کی دعوت دینے کو اپنے ملک کی کانسٹی ٹیوشن کی خلاف ورزی تصور کرتی ہے۔میرا بھی یہی مشورہ ہے کہ آپ کوئی ایسا کام نہ کریں جسے حکومت ملک کے قانون کی خلاف ورزی تصور کرے۔بعد میں انہوں نے یہ نوٹس کی صورت میں لکھ کر بھی بھیجوا دیا۔میں نے ان کو کھا کہ مذہبی آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے جسے دنیا کی ہر مہذب حکومت تسلیم کرتی ہے اگر سپین کی کوئی ایسی CONS Ti Turion ہے تو اسے انہیں تبدیل کرنا چاہیے ورنہ پاکستان کو بھی ان کے مشنریوں کو تبلیغ کی اجازت نہیں دینی چاہئیے۔اگر وہ مجھے ملک سے باہر نکالنے کی دھمکی دیتے ہیں تو ہماری حکومت ان کے مشنریوں کو بھی نکل جانے کا نوٹس دیدے۔کہنے لگے ہمارا ملک مذہبی آزادی کو تسلیم کرتا ہے مگران کا ملک تسلیم نہیں کر تا ہم ان کو ان کے ملکی قانون بدلنے کے لئے کیسے مجبور کر سکتے ہیں ؟ خاکسار نے ہسپانوی وزیر خارجہ کو ایک خط لکھا کہ میں دس سال سے پین میں تقسیم ہوں آپ تک میرے خلاف کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی اب حکومت میری سرگرمیوں کو کیوں ہ انہیں دنوں کا واقعہ ہے کہ جناب ظفر صاحب ایک روز گلی میں اسلام کی عام اخلاقی تعلیم بیان فرما رہے تھے کہ ایک صاحب نے کہا کہ تم ہمارے ملکی قانون کے خلاف اپنے مذہب کی تبلیغ کر رہے ہو ؟ سامعین نے اس کی مداخلت پر سلامت کی مگر وہ سیدھے پولیس والوں کے پاس پہنچے پولیس افسر صاحب نے ایک سپاہی بھیج کہ آپ کو بلوایا اور تنبیہ کی کہ آپ کو شارع عام میں ہر گز کوئی بات نہیں کرنی چاہیے ورنہ حکومت سپین آپ کو ملک سے نکالنے پر مجبور ہوگی۔کیتھولک مجلس عمل ACTION CATHOLIC کے ممبر نے بھی کہا کہ وہ اپنا پورا زور صرف کریں گے کہ آپ کو ملک سے نکال دیا جائے۔خود شکایت کنندہ نے بتایا کہ چورہ آپ کی ہر حرکت و نقل کی نگرانی کر رہا ہے اور ساین چر چے کو اس ملک میں آپ کی موجودگی کسی طرح گوارا نہیں ؟