تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 47 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 47

مام پابندی عائد نہیں کرتی۔اس نے کہا یہ تو درست ہے مگر سپین کی وزارت خارجہ کا سیکرٹری یہ کہتا تھا کہ تم اپنے ملک میں لوگوں کو جو بھی آزادی دینا چاہتے ہو میشک دو ہمارے ملک کی کانسٹی ٹیوشن اس سے مختلف ہے اور ہمارے ملک کا یہی قانون ہے کہ یہاں کسی کو اسلام کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔بہر حال یہ ایک افسوس کا مقام ہے کہ ہماری حکومت دوسری حکومتوں سے اتنا ڈرتی ہے کہ وہ اسلام کی حمایت بھی نہیں کر سکتی بحالانکہ اس کا فرض تھا کہ جب ایک اسلامی مبلغ کو ہسپانوی حکومت نے یہ نوٹس دیا تھا تو وہ فوراً پروٹسٹ کرتی اور اس کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی مگر پروٹسٹ کرنے کی بجائے ہسپانوی حکومت نے یہ نوٹس بھی ہمارے مبلغ کو پاکستانی نمائندہ کے ذریعہ ہی دیا ہے۔وہ لکھتے ہے کہ میں نے ایک وزیر سے کہا کہ مجھے یہ نوٹس براہِ راست کیوں نہیں دیا گیا تو اس نے کہا یہ نوٹس براہ راست تمہیں اِس لئے نہیں دیاگیا کہ اگر ہم تمہیں نکال دیں تو پاکستانی گورمنٹ ہم سے خفا ہو جائے گی پس ہم نے چاہا کہ پاکستانی سفیر تمہیں خود یہاں سے پہلے جانے کے لئے کہے تاکہ ہم اتے خلاف حکومت پاکستان کو کوئی خفگی پیدا نہ ہو۔۔پاکستانی گورنمنٹ کے نمائندے کے ذریعہ ہسپانوی گورنمنٹ کی طرف سے ہمارے مبتلخ کو یہ نوٹس دیا گیا ہے کہ چونکہ تم اسلامی مبلغ ہو اور ہمارے ملک کے قانون کے ماتخت کسی کو یہ اجازت نہیں کہ وہ دوسرے کا مذہب تبدیل کرے اس لئے تم اسلام کی تبلیغ نہ کر دو ورنہ ہم مجبور ہوں گے کہ تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں۔شاید کوئی محبت اسلام رکھنے والا سرکاری افسر میرے اس خطبہ کو پڑھ کر اس طرف تو تہ کرے اور وہ اپنی امیلیسی سے کہے کہ تم ہسپانوی گورنمنٹ کے پاس اس کے خلاف پروٹسٹ کرو اور کہو کہ اگر تم نے اسلام کے مبلغوں کو اپنے ملک سے نکالا تو ہم بھی عیسائی مبلغوں کو اپنے ملک سے نکال دیں گے۔بیشک اسلام میں مذہبی آزادی کا حکم دیتا ہے مگر اسلام کی ایک لیے بھی تعلیم ہے کہ جزاء سيسة سينةٌ مِثْلُها یعنی اگر تمہارے ساتھ کوئی غیر منصفانہ سلوک کرتا ہے تو تمہیں بھی حق ہے کہ تم اس کے بدلہ میں اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو۔پس اگر کوئی