تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 425 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 425

۴۲۲ وقعہ (K) میں یہ شرط ہے کہ اٹھارہ ماہ کے اندر مکان بن جائے۔یہ شرط تو افراد کے لئے ہے شہر تو گورنمنٹ بھی پندرہ بیس سال کے بعد بناتی ہے لہذا اس شیق کو یا تو بدل دیا جائے یا منسوخ کیا جائے۔دوسری بات ان سے یہ کی جائے کہ اگر ہم وہاں رہیں گے تبھی شہر بنے گا لنا فی الحال ہمیں وہاں رہنے کے لئے عارضی جھونپڑیاں بنانے کی اجازت دی بجائے بغیر اس کے تو وہا اے رہنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہو سکتی۔تیسری بات یہ کی جائے کہ نقشہ ساتھ لے جایا جائے کہ اس سارے پر شہر نہیں بن سکے گا بلکہ بعض حصوں کو باغات ، زراعت اور کھیلوں وغیرہ کے لئے رکھا جائے گا نیز یہ کہ عمارت سے زیادہ پائیدار چیز کو تو شرط کے خلاف قرار دیا جا سکتا ہے زراعت اور باغات وغیرہ تو عمارت کے مقابلہ میں عارضی ہیں پہلے معاملہ کی درخواست کی جائے اور دوسرے کے متعلق ڈسکس (Discuss ) کیا جائے۔میان اعلام محمد ناقل) اختر صاحب کی معرفت ریلوے اسٹیشن اور ڈاک خانہ کے لئے فوراً درخواست کرنی چاہیے۔اس میں یہ ہو کہ ہم سارا نقصان برداشت کر لیں گے اس کی ضمانت ہم دیں گے یہ لے اگلے روز (۱۶) تبوک ستمبر کو حضور نے صدر انجمن افتتاح مرکز کے ابتدائی انتظامات امدادی اور تحریک جدید د د د دار کارکنوں کامشترکہ اور کے ذمہ مجلس میں افتتاح مرکز کے لئے بہ تبوک ستمبر کا ون مقری فرمایا اور اس کے ابتدائی انتظامات کے لئے 12 بہایت اہم ہدایات دیں جن کا خلاصہ یہ تھا کہ : ا۔کراچی سے جنر ٹیر لایا جائے۔- ایک شخص مینیوٹ سجائے اور وہاں دیکھے ہاس ( HUTS) بن سکتے ہیں۔سرکنڈا ، بانس، چٹائیاں، انٹیں مل سکتی ہیں ؟ کیس قیمت پر ملیں گی۔ڈھلوائی کتنی ہوگی اور باقی چیزیں کہاں ملیں گی ؟ ۳۔عمارتی بانس کے لئے لاہور، سانگلہ اور سرگودہا سے دریافت کیا جائے۔سے چنیوٹ میں مکانوں کے لئے کوشش کی جائے۔۵۔دھوبی ، نائی بکمہار، ترکھان کے متعلق روزانہ اشتہار ہونا چاہیے۔کے جھونپڑے : ه منقول از رجیسٹر کا رروائی مجلس ناظران و وکلاء ه ۱۳۹۳ سے اس غرض کے لئے افتتاح مرکز سے قبل جمعدار فضل الدین صاحب او و سیر کو لائل پور اور سرگودہا بھجوایا گیا تا چھپر بنا کو عارضی رہائش گاہوں کا انتظام کیا جاسکے جو