تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 426
متری عبد اللطیف صاحب کو ملتان سے کراچی بھجوایا جائے۔کے محاسب کی آدھی برانچ (لا ہور سے چنیوٹ) عزیز احمد لے جائیں۔معلوم کیا جائے سیمنٹ کی ریٹ پر مل سکتا ہے؟ بانس کتنا مہیا ہو سکتا ہے ؟ تمیں خیمے اور تی ہیں چھولداریاں کی جائیں۔q ۱۰۔پھوس کے کچھ مکان بنائے جائیں۔- ڈاک خانہ کی فوری کوشش کی جائے۔۱۲۔پانچ بکرے خریدے بہائیں " مرکز پاکستان کا نارواہ کیا گیا اس میں کام کر کے ان کا سا ابھی زیر و یا حضرت کانام را۔۔صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، مولانا عبد الرحیم صاحب درد اور مولانا جلال الدین صاحب شمس کی طرف سے ماوی، ذکر کی، دارالہجرت مدینہ اشیخ اور ربوہ وغیرہ نام پیش ہوئے قریشی عبد الرشید صاحب اسسٹنٹ سیکرٹری تعمیر کمیٹی کی چشم دید روایت کے مطابق در بوہ نام مولانا جلال الدین صاحب شمس نے تجویز کیا جسے حضرت مصلح موعود نے بھی منظور فرمایا۔بینام مولوی مادی ی معنوی اور ڈوھانی ہر اعتبار سے نہایت موزوں اور لطیف تھا۔قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت کریمہ کی مناسبت سے رکھا گیا جس میں حضرت شیخ کی اپنی والدہ سمیت ہجرت کا واقعہ (بطور پیش گوئی لکھا ہے:۔وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَامَّهُ ايَةً وَأَوَيْنَهُمَا إِلَى رَبوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِين (مومنون ہے ) نے عربی لغت میں ربوہ کے متعدد معنے مذکور ہیں مثلا میلہ، پہاڑی ، بلند زمین، عمدہ چیز۔ریاضی دانوں کے پاس وسنش لاکھ کی تعداد بھی ربوہ کہلاتی ہے۔رَبَا الْفَرَسُ رَبُوا کا مطلب ہے گھوڑا بھاگنے سے سانس چڑھنا۔دبا اتوکد رَبُوا وَرَبُوا بچہ کا بڑھنا تعلیم پاتا، پھیلنا اور نشو و نما پانا۔کیا المال کا مفہوم ہے دولت کا بڑھتا، لمبا ہوتا۔رپوہ ایک بڑی جماعت کو بھی کہتے ہیں جو قریباً دس ہزار پر مشتمل ہو۔یہ لفظ بے شمار تعداد کے لئے بھی مستعمل ہے۔المعجم الاعظم از محمد حسن الأعظمي زير لفظ " وبوه) سے احادیث میں کئی مقامات پر ربوہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔مثلاً ترندی جلد کتاب التفسیر میں ہے الفردوس رَبُوَةُ الْجَنَّةِ وَاوْسَطُهَا وَ أَفْضَلُها " فردوس بہشت کا اعلیٰ اور بلند مقام ہے اور عین وسط میں بھی ہے۔(ترجمہ از مولوی وحید الزمان صاحب كتاب " لغات الحديث