تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 424
حضرت مفتی محمد صادق صاحب (۲) حضرت چوہدری برکت علی خاں صاحب (۲۵) حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب (۶۵) حضرت مولوی محمد الدین صاحب (4) حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری ز عمنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (ش) حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتا لوی (ع) حضرت منشی عبوب عالم صاحب نیلا گنبد (۲۴) حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد ( ۳۷۳) حضرت ماسٹر مولانی صاحب (۳۱۲) حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب (۴۳۵) حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب (۱۴۳) حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم ام المومنین (۴۵) حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب (۳۹) خدا کے موعود خلیفہ کی آواز پر لبیک کہنے والے ان مخلصین کا تعلق مشرقی پنجاب خصوصاً قادیان سے آنے والے مہاجرین اور پاکستان میں پہلے سے مقیم احمدیوں کے ہر طبقہ سے تھا۔درویشان قادیانی اور کلکتہ کے بعض احمد یوں نے بھی قیمت ادا کر دی تھی اس لئے ان کا نام بھی فہرست میں موجود تھا۔حکومت مغربی پنجاب نے چک ڈھگیاں کی اراضی کی منظوری بستی کی آبادی میں قانونی نیچیپ یدگی اور دیتے ہوئے علاوہ دوسری شرائط کے ایک خطرناک اس کے ازالہ کے لئے مخصوصی ارشاد مبارک باندی یہ نگاری حتی کہ زمین پرقبضہ کے اٹھارہ ماہ بعد بستی کے گل مکان بن جانے چاہئیں۔یہ شرط چونکہ صدر انجین احمدیہ پاکستان جیسے مہاجر اور نئے قائم شدہ ادارہ کے لئے ناقابل عمل اور مالی اخراجات کے لحاظ سے ناقابل برداشت تھی اس لئے حضرت مصلح موعود نے جہاں نئے مرکز کی آبادی سے متعلق بلا تاخیر دوسرے ضروری انتظامات کی طرف تعمیر کمیٹی کو توجہ دلائی وہاں ۱۵ ماہ تبوک رستمبر کو یہ بھی ارشاد فرمایا کہ : " میرا خیال ہے کہ ایک وفد گور نر کو ملے کہ ہم ریفیوجی ہیں ہم پر گاؤں بنانے میں پابندیاں کیوں لگائی جا رہی ہیں ؟ دنیا میں آخر ا د بھی گاؤں بن رہے ہیں ہمارے پاس اتنار و پیہ کہاں کہ ہم ان پابندیوں کو پور اگر سکیں یا گورنمنٹ اپنے پاس سے ہیں تیس لاکھ روپیہ بلا شود اِس مقصد کے لئے ہمیں قرض دیدنے یا پھر جب قصبہ بنے تو پھر پلینگ کیا جائے ہمیں فی الحال پچھتر وغیرہ بنانے کی اجازت دی جائے جس میں ہم راستوں وغیرہ کی پینٹنگ کا خیال رکھیں گے بعد میں آہستہ آہستہ کھلے مکان پلینگ کے مطابق بنا لیں گے۔ایک وفد رضا کے پاس جائے رضا فنانس کمشنر کے سیکرٹری ہیں۔یہ وفد اس لئے بجائے کہ معاہدہ کی