تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 27
۲۷ سيدنا المصلح الموعود نے فرزندان احمدیت کے سپین میں حضرت امیر المومنین کا نہایت اہم بیان سنے کی اطلاع پر مسجد مبارک ادیان میں ایک تقریر کرتے مجاہدین سپین کے پہنچنے پر ہوئے سیتی میں مسلمانوں کے شاندار عروج اور دردناک سپین زوال کی تاریخ پر نہایت تفصیل سے روشنی ڈالی اور فرمایا :- اسلامی تاریخ میں ایک نہایت ہی اہم واقعہ سپین پر اسلامی لشکر کا حملہ ہے جس سے یورپ میں اسلام کا قیام ہوا۔یوں تو سارے انسان ہی خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک جیسے ہیں اور کسی جماعت یا کسی طبقہ کو کسی دوسری جماعت پر فوقیت نہیں لیکن یورپ اس اسلامی حملہ کے بعد سارے مشرق پر چھا گیا۔گویا یہ اسلامی حملہ ایسا تھا جس نے ذوالقرنین کے بند کو توڑ دیا۔یورپ سویا ہوا تھا اسلامی حملہ نے اُسے بیدار کر دیا۔یورپ فاضل تھا اسلامی حملہ نے اُسے ہوشیار کر دیا۔اس نے بیدار ہوتے ہی ایشیا اور افریقہ پر قبضہ کر لیا مسلمان اگر تہمت دکھاتے اور جو چیز ان کو دی گئی تھی اسے مضبوطی سے پکڑے رکھتے اور اپنی طاقت کو کمزور ہونے سے بچاتے تو آج مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی کہ بجائے اس کے کہ ایشیا یورپ پر قابض تھا آج یورپ ایشیا پر قابض ہے۔اور بجائے اس کے کہ اسلام کے غلبہ اور شوکت کی وجہ سے یورپ میں عیسائیت کا نام و نشان نہ ملتا آج عیسائیت ایشیا میں اسلام کو کمزور کر رہی ہے۔۔۔اس ملک میں آج تک مسلمانوں کے بنائے ہوئے عالی شان محلات موجود ہیں۔غرناطہ اور قرطبہ میں اس اس قسم کے محلات تھے کہ تاج محل ان کے مقابل پر کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا۔_ انسان جب ان کے کھنڈرات کی تصویروں کو دیکھتا ہے تو عش عش کر اُٹھتا ہے۔غرناطہ میں ہزاروں باغات تھے مسلمانوں کے وقت میں جگہ جگہ لائبریریاں تھیں بعض کتب میں لکھا ہے کہ چھ سات سو کے قریب وہاں لائبریریاں تھیں اور بعض لائیبریریوں میں لاکھ لاکھ ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ کتابیں تھیں۔سارا یورپ وہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتا تھا جس طرح آج لوگ بر آن اور انگلینڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں یہی حال اس وقت قرطبہ اور غرناطہ کا تھا اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں اٹھارھویں صدی تک وہاں کی لکھی ہوئی کتابیں OGARANADA ♣ CORDOYA ♣