تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 28 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 28

پڑھائی جاتی رہی ہیں۔جس ملک میں مسلمانوں نے اس شان سے حکومت کی آج وہاں کوئی ایک مسلمان بھی نہیں ملتا۔کوئی غیر ملک سے وہاں تعلیم کے سلسلہ میں یا اور کسی کام کے لئے گیا ہو تو اور بات ہے لیکن اس ملک کا کوئی باشندہ مسلمان، نظر نہیں آئے گا۔وہ لوگ جنہوں نے سینکڑوں سال تک سپین پر حکومت کی وہ آج سپین کے زیر نگیں ہیں اور وہ لوگ جو سپین کے بادشاہ تھے آج سپین کے غلام ہیں۔یہ واقعات ایسے اہم ہیں جن کو کسی وقت بھی پھیلایا نہیں جا سکتا۔آٹھ سو سال کی حکومت کوئی معمولی بات نہیں لیکن آج اس ملک کی یہ حالت ہے اس میں کسی مسلمان کی ہو اتک سونگھنے کو نہیں ملتی۔اندلس میں مسلمانوں کو جوشان و شرکت حاصل تھی اور پھر اس کے بعد جو سلوک وہاں کے مسلمانوں سے کیا گیا اسی طرح منتقلیہ میں مسلمانوں کا جو رعب و دبد یہ تھا اور اس کے بعد جس طرح انہیں وہاں سے نکالا گیا جب میں نے یہ حالات تاریخوں میں پڑھے تو میں نے عزم کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی توئیں ان علاقوں میں احمدیت کی اشاعت کے لئے اپنے مبتلقین بھجواؤں گا جو اسلام کو دوبارہ ان علاقوں میں غالب کریں اور اسلام کا جھنڈا دوبارہ اس ملک میں گاڑ دیں۔پہلے میں نے ملک محمد شریف صاحب کو اس ملک میں بھیجا لیکن کچھ عرصہ کے بعد وہاں اندرونی جنگ شروع ہوگئی اور سپین کے انگریزی فصل نے ان سے کہا کہ آپ یہاں سے چلے جائیں، پھر میں نے ان کو اٹلی بھیج دیا مگر آب جو و خود گئے ہیں ان میں میں نے سپین کو بھی مد نظر رکھا ہے اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے مبلغ سپین کے دار السلطنت میڈرڈ میں پہنچ گئے ہیں جیسا کہ اخبار میں شائع ہو چکا ہے۔دو آدمی اتنے بڑے علاقہ کے لئے کافی نہیں ہو سکتے اور تمہیں اس کے لئے مزید کوشش جاری رکھتی ہوگی مگر سر دست ہم ان دو کو ہی ہزاروں کا قائمقام سمجھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے لئے کثرت سے اہم مقامات پر نئے تبلیغی رستے کھل رہے ہیں اور وہاں سے پیاسی رو میں پکار رہی ہیں کہ ہماری سیرابی کا کوئی انتظام کیا جائے لیکن ہمارے پاس نہ اتنی تعداد میں آدمی ہیں کہ ہم ہر آواز پر ایک وفد بھیج دیں اور نہ ہی و خود بھیجنے کے لئے اخراجات ہیں۔ایسے حالات میں ایک مومن کا خون کھولنے لگتا ہے، خصوصاً