تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 408
۴۵ چونکہ میرے پر دادا اور نظام الملک کو ایک ہی سال میں خطاب، اور محمدہ ملا تھا اس لئے مجھے اس خاندان کی تاریخ کے ساتھ کچھ دلچسپی رہی ہے بنگلہ میں ہی ان کو خطاب ملا اور اللہ میں ہی میرے پر دادا مرزا نبض محمد خاں صاحب کو خطاب ملا تھا۔ان کو نظام الملک اور میرے پر دادا کو عضد الدولہ۔اس وقت میرے پاس کا غذات نہیں ہیں جہاں تک معہدے کا سوال ہے غالباً نظام الملک کو پہلے پانچ ہزاری کا عمدہ ملا تھا لیکن مرزا فیض محمد صاحب کو ہفت ہزاری کا عہدہ ملا تھا۔اس وقت نظام الملک با وجود دکن میں شورش کے دلی میں بیٹھے رہے اور تب دکن گئے تھے جب دکن کے فسادات مٹ گئے تھے سلطان حیدرالدین کی جنگوں میں بھی حیدر آباد نے کوئی اچھا نمونہ نہیں دکھایا تھا۔مرہٹوں کی جنگوں میں بھی اس کا رویہ اچھا نہ تھا۔انگریزوں کے ہندوستان میں قدم جتنے میں بھی حیدرآباد کی حکومت کا بہت کچھ دخل تھا مگر جہاں بہادری کے معامل میں نظام کبھی اچھے ثابت نہیں ہوئے۔وہاں عام دور اندیشی و انصاف اور علم پروری میں یقیناً یہ خاندان نہایت اعلیٰ نمونہ دکھاتا رہا اور اسی وجہ سے کسی اور ریاست کے باشندوں میں اپنے رئیس سے اتنی محبت نہیں پائی جاتی جتنی کہ نظام کی رعایا میں نظام کی پائی جاتی ہے۔انصاف کے معاملہ میں میرا اثر یہی رہا ہے کہ حیدر آباد کا انصاف برطانوی راج سے بھی زیادہ اچھا تھا۔بہندومسلمانوں کا سوال کبھی نظاموں نے اٹھنے نہیں دیا اور ان خوبیوں کی وجہ سے وہ ہمیشہ ہی ہندوستان کے مسلمانوں میں مقبول ہے۔لیکن جہاں یہ صحیح ہے کہ حیدرآباد کا نظام خاندان کبھی بھی جنگی خاندان ثابت نہیں ہوا وہاں یہ بھی درست ہے کہ حیدرآباد کی رعایا بھی جنگی رعایا نہیں۔کوئی نئی روح ان کو جنگی بنا سکتی تھی مگر نواب بہادر یار جنگ کی وفات کے بعد وہ نئی روح حیدر آباد میں نہیں رہی بستید قاسم رضوی کے جانے والے جاتے ہیں کہ بہادر یار جنگ والی روح ان میں نہیں۔بہادر یار جنگ علاوہ اعلیٰ درجہ کے مقرر ہونے کے عملی آدمی بھی تھے۔قاسم دمنوی صاحب مقدر ضرور ہیں مگر اعلی درجہ کے عملی آدمی نہیں ہیں شہزادہ برار کے اندر بھی کوئی ایسی روح نہیں شہزادہ ہوار نے آج سے اکیس سال پہلے بعض مہا سبھائی ذہنیت کے لوگوں سے ایک خفیہ معاہدہ کیا تھا جس میں یہ اقرار کیا تھا کہ جب یکی بر سر حکومت آؤں گائیں فلاں فلاں رعائتیں ہندو قوم کو دوں گا۔یہ معاہدہ ان کے ایک مخلص مصاحب کے علم میں آگیا اور اس نے ان کے کاغذات میں سے معاہدہ نکال کر مجھے پہنچا دیا اس وقت معلوم ہوا کہ شہزادہ بار کو جیب خرچ نہیں ملتا اور بعض ہندوؤں نے انہیں روپیہ دینا شروع کر دیا تھا جس کی بناء پر انہوں نے یہ ے اس موعود کے پردادا کے والد تھے۔(مولف امی سیرت المہدی حصہ سوم من ا میں شائع شدہ ہے جو انار کا ہے مرزا فیض محمد میں محمد فرخ غازی شاہنشاہ ہند کے منشور ہے