تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 409
۴۰۶ معاہدہ کیا تھا۔میں نے اس معاہدہ کی اطلاع گورنمنٹ آف انڈیا کو دی اور اس کو توجہ دلائی کہ اتنی بڑی سلطنت کے ولی محمد کو جیب خرچ نہ ملنا نہایت خطرناک بات ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گونمنٹ آف انڈیا نے اس حقیقت کو محسوس کرتے ہوئے علمی شہزادے کا جیب خرج مقر کرا دیا جو غالباً دس ہزار یا بین ہزار روپیہ ماہوار تھا ایسے انسان سے کس طرح اُمید کی جا سکتی تھی کہ وہ اس نازک وقت میں اپنی جان کو خطرہ میں ال کو قوم کی راہنمائی کرے گا۔پس حیدر آباد کا واقعہ گو مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تکلیف دہ ہے لیکن جو کچھ اس وقت ہوا ہے تاریخی واقعات کی ایک لمسی زنجیر کی آخری کڑی ہے۔بے شک آج مسلمان اس بات کا خیال کر کے بہت ہی شرم محسوس کرتے ہیں کہ تین دن پہلے مسلمانوں کے لیڈر حیدرآباد سے یہ براڈ کا کر رہے تھے کہ ہم ولی کے لال قلعہ کی طرف آرہے ہیں اور تین دن کے اندر اندر انہوں نے ہتھیار بھی ڈال دیئے اور ان ساری امیدوں کو چھوڑ دیا جو ربع صدی سے اپنے دلوں میں لئے بیٹھے تھے مگر میں سمجھتا ہوں یہ ابتداء بھی اگر پاکستان کے مسلمانوں کے عزم کو اور بلند کرنے کا موجب ہو جائے تو پلیز جمت نہیں بلکہ بلک رحمت ہوگا۔خدا تعالیٰ عام دنیاوی دروازے بند کر کے مسلمانوں کو بلا رہا ہے کہ میری طرف آؤ۔خدا کی رحمت کا دروازہ آپ بھی کھلا ہے کاش مسلمان اپنی آنکھیں کھولیں اور اس کی آواز پر لبیک کہیں۔اسلام کا جھنڈا سرنگوں نہیں ہو سکتہ خدا کے فرشتے جو میں اس کو اُونچا رکھیں گے ہمیں تو اس بات کی فکر کرنی چاہیئے کہ خدا کے فرشتوں کے ہاتھوں کے ساتھ ہمارے ہاتھ بھی اس جھنڈے کو سہارا دے رہے ہوں۔اے خدا تو مسلمانوں کی آنکھیں کھول کہ وہ اپنے فرض کو بچائیں، تیری آواز کو سنیں اور اسلام پھر سے معتز زاور موثر ہو جائے ما حضرت مصلح موعود کے قلم سے مسالہ احمدیت کا پیغام کی ۱۳۱۰۳۰ انشاء بر اکتوبر ۶۱۹۴۸ کو جماعت احمدیہ سیالکوٹ کا تصنیف اشاعت اسکی مقبولیت اور غیر کی زبانوں میں تراجم سالانہ جلسہ منور تھا۔با بو قاسم الدین صاحب ان دنوں جماعت ہائے احمد یہ سیالکوٹ کے امیر تھے۔آپ رتن باغ میں حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ حضور ہمارے جلسہ سہ کے موقع پر جماعت ان الفضل ۲۱ تبوک استمر ۱۳:۲۵ ص۲-۳