تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 407
۴۰۴ نیک خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کریں تو یقیناً مسٹر جناح کی وفات مسلمانوں کی تباہی کا موجب نہیں بلکہ مسلمانوں کی مضبوطی کا موجب ہوگی۔بانی سلسلہ احمدیہ جب فوت ہوئے ہیں اُس وقت میری عمر انہیں اسال کی تھی۔اُن کی وفات اسی لاہور میں ہوئی تھی اور ان کی وفات کی خبر سنتے ہی شہر کے بہت سے اوباشوں نے اُس گھر کے سامنے شور و غوغا شروع کر دیا تھا جس میں اُن کی لاش پڑی تھی اور نا قابل برداشت گالیاں دیتے تھے اور نا پسندیدہ نعرے لگاتے تھے مجھے اُس وقت کچھ احمدی بھی اُکھڑے اُکھڑے نظر آتے تھے تب یکں بانی سلسلہ احمدیہ کے سرہانہ ھا کر کھڑا ہو گیا اور میں نے خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے یہ عرض کی کہ اگر ساری جماعت بھی مرتد ہو جائے تو میں اس مشن کو پھیلانے کے لئے جس کے لئے خدا نے انہیں مبعوث کیا تھا کوشش کروں گا اور اس کام کو پورا کرنے کے لئے کیسی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا خدا تعالیٰ نے میرے عہد میں ایسی برکت دی کہ احمدیت کے مخالف خواہ ہمارے عقیدوں کے متعلق کچھ کہیں یہ تو ان میں سے کوئی ایک فرد بھی نہیں کہہ سکتا کہ پائی سلسلہ احمدیہ کی وفات پر جو طاقت جماعت کو حاصل تھی اتنی طاقت آج جماعت کو حاصل نہیں شہر میں اقرار کرے گا کہ اس سے درجنوں گئے زیادہ طاقت اس وقت جماعت کو حاصل ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ مسٹر جناح کی وفات کے بعد اگر وہ مسلمان جو واقعہ میں ان سے محبت رکھتے تھے اور ان کے کام کی قدر کو پہچانتے تھے سچے دل سے یہ عہد کر لیں کہ جو منزل پاکستان کی اُنہوں نے تجویز کی تھی وہ اس سے بھی آگے اسے لیجانے کی کوشش کریں گے اور اس عہد کے ساتھ ساتھ وہ پوری تندہی سے اس کو نبھانے کی کوشش بھی کریں تو یقیناً پاکستان روز بروز ترقی کرتا چلا جائے گا اور دنیا کی مضبوط ترین طاقتوں میں سے ہو بھائے گا۔حیدر آباد کے معاملہ کے متعلق بھی لیکن یہ سمجھتا ہوں کہ اگر مسلمان حوصلہ سے کام لیں تو حید ر آباد کا مسئلہ کوئی نا قابل تلافی مصیبت نہیں حق تو یہ ہے کہ حیدر آباد اپنے حالات کے لحاظ سے انڈین یونین میں ہی شامل ہونا چاہیے تھا جس طرح کہ کشمیر اپنے حالات کے لحاظ سے پاکستان میں ہی شامل ہونا چاہیئے یں تو شروع دن سے مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں۔اور میرے نزدیک اگر حیدر آباد اور کشمیر کے مسئلے کو اکٹھا رکھ کر حل کیا جاتا تو شاید الجھنیں پیدا ہی نہ ہو تیں لیکن بعض دفعہ لیڈر عوام الناس کے جذبات سے اتنے مرعوب ہوتے ہیں کہ وہ وقت پر صحیح راستہ اختیار کر ہی نہیں سکتے۔حیدر آباد کی پرانی تاریخ بتارہی ہے کہ حیدر آباد کے نظام کبھی بھی لڑائی میں اچھے ثابت نہیں ہوئے۔