تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 21 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 21

۲۱ ایک سے زائد مراکز قائم تھے۔ملک صاحب نے ان سوسائٹیوں اور ان کی شاخوں کو ایک مطبوع خط بھیجوایا جس میں انہیں بتایا کہ مسیح صرف بنی اسرائیل کے نبی تھے مگر اسلام کا نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) رحمۃ للعالمین ہے اور آپ کی لائی ہوئی شریعیت سارے جہانوں اور زبانوں کے لئے ہے۔فرانس کے ساتھ ہی لیجیم کا مشہور ملک ہے جہاں زیادہ تر فرانسیسی رائج ہے۔اور گورا سکے بعض حصوں میں فلیمنگ زبان بھی بولی جاتی ہے مگر شائستہ اور اعلیٰ طبقہ میں فرانسیسی کو ہی پسند کیا جاتا ہے۔ملک عطاء الرحمن صاحب اس ملک تک پیغام احمدیت پہنچانے کے لئے ۲۶ رمان نبوت کو پہلے اس کے دار الحکومت برسلز میں اور پھر شہور شہر ا نٹورپ میں تشریف لے گئے۔آپ کو دونوں شہروں میں اخباری نمائندوں سے ملاقات کرنے اور پبلک مقامات پر تبینی ٹریکٹ تقسیم کرنے کا موقعہ ملا۔اس یک روزہ سفر کا یہ اثر ہوا کہ برسلز کے بعض اخبارات نے پہلی بار اسلام اور احمدیت کی نسبت عمدہ نوٹ شائع کئے مثلاً اخبار فیرڈی مانش (PHARE DI MANCHE ) نے یورپ پر اسلام کا حمال" کے عنوان سے حسب ذیل شذرہ سپر د اشاعت کیا :- یورپ پر اسلام کا حملہ" کچھ دن ہوئے ایک ذہین النظر، خوش کلام اور سنجیدہ طبع صاحب ہمارے اختبار "PHARE DIMANCH E کے دفتر میں ملنے کے لئے آئے مسیح کے نمائندہ کے طور پر انہوں نے ہم سے اپنا تعارف کرایا۔معلوم ہوا کہ ایک مسیح ہندوستان میں مبعوث ہوئے ہیں۔انہوں نے اپنے معتقدین کے پر یہ کام کیا ہے کہ وہ زمین کے کناروں تک ان کا پیغام پہنچائیں چنانچہ مسلمان اب اس طرح عیسائیوں کو اسلام کی طرف کھینچنا چاہتے ہیں۔قرآن کے ذریعہ نہ کہ پہلے کی طرح تلوار کے ذریعہ۔چنانچہ یہ اپنے رنگ کا نیا اور جدید طریق ہو گا۔مسیح کے اس نمائندہ کے بیان کے مطابق حضرت احمد علیہ السلام) وہ موعود مسیح ہیں کہ جنکے متعلق مختلف انبیاء نے کتب سابقہ میں پیش گوئیاں فرمائی تھیں چنانچہ وہ ساری پیش گوئیاں حضرت احمد (علیہ الصلوۃ والسلام) کے وجود میں پوری ہوئیں۔مثلاً گندمی رنگ، قدرے نکنت ، کدعہ بستی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ان تمام پیش گوئیوں کے مطابق وہ ہندوؤں کے لئے کوشن ہوئے۔