تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 22
۲۲ زرتشتیوں کے لئے میسو دراہمی ، عیسائیوں کے لئے میسیج اور مسلمانوں کے لئے مہدی۔ان تمام امور میں کیونکر شک کیا جا سکتا ہے اور پھر اس پیشگوئی پر کیوں شک ہو گا کہ جو اس مہدی نے فرمائی ہے کہ ساری ہی دنیا اپنے خاتمہ سے پہلے اسلام قبول کرے گی۔اس نمائندہ کے بیان کے مطابق تحریک احمدیت نے دنیا کی تمام وسعتوں میں اپنے مراکز اور جماعتیں قائم کی ہیں۔امریکہ اور انگلستان اور فرانس میں بھی ہو سکتا ہے کہ کبھی بلجیم میں بھی ان کی جماعت قائم ہو۔چنانچہ اس کے علاوہ ہم اور کیا کر سکتے ہیں کہ خدا ان صاحب کو اس مقصد کے لئے نیک مواقع عطا فرمائے۔کیا تمام مذاہب اور عقائد اعزاز و اکرام کے حقدار نہیں ؟ " ہے مرکز پر بوجھ ڈالے بغیر پاک وہند کی احمدی جماعتیں چونکہ سانحہ ہجرت کے دوران شدید مالی بحران سے دوچار تھیں اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ فرانس مشن اور دوسرے میشن جاری رکھنے کا عزم لئے جاری شدہ احمدی مشنوں کوفی الحال بند کر دیا جائے مگر سب نے فرانس ملک عطاء الرحمن صاحب نے دوسرے مجاہدین یورپ کی طرح اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مرکز پر میشن کے اخراجات کا بوجھ ڈالے بغیر تبلیغ اسلام کا کام جاری رکھیں گے۔انہیں اس گہوارہ الحاد و وہر بیت میں رہنے کی اجازت دی جائے۔چنانچہ سید نا المصلح الموعود نے ان کی یہ درخواست قبول کرلی اور ۲۶ ماہ نبوت / نومبر ﷺ کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :- فرانس میں مستلقے بھیجے گئے مگر کامیابی کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی۔وہاں کے بھی مبلغ کو جو لاہور کے ہی ہیں کہا گیا کہ تم واپس آجاؤ تو انہوں نے بھی کہا کہ مجھے واپس نہ بلایا جائے لیکن یہاں اپنی کمائی سے کام کروں گا۔انہیں وہاں چھوڑ دیا گیا اور انہیں اپنے خرچ پر کام کرنے کی اجازت دی گئی۔اب وہاں بھی کام شروع ہو گیا ہے۔ان کی تار آئی ہے کہ اب وہاں بھی عیسوں اور تقریروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔پریسں اور دوسرے لوگ بھی توجہ کر رہے ہیں۔آج ہی اطلاع ملی ہے کہ وہاں کی ایک سوسائٹی نے اقرار کیا ہے کہ اگر الہام کے متعلق مضامین لکھے جائیں تو وہ خود بھی ان کی اشاعت میں مدد کرے گی " سے ۱۳۲۸ کیش الفضل ۱ صلح جنوری من یورپ میں جماعت احدیہ کی تبلیغی مساعی سه الفضل در فتح اردسمبر ه ۱۳ ا ح کالم لا ؟ 1989