تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 349
MMY جب کوئی چیز حاصل ہو جاتی ہے۔اگر کوئی شخص اپنے ذہن میں یہ سکیم بنائے کہ میں اس اس طرح تجارت کروں گا اور میرے پاس لاکھوں روپیہ جمع ہو جائے گا تو محض شیخ چھٹی جیسے خیالات پیدا ہونے کی وجہ سے ڈاکو اس کے گھر پر حملہ نہیں کر دیں گے لیکن اگر وہ اپنی سکیموں میں کا میاب ہو جائے تو اس کے بعد بے شک اسے خطرہ پیدا ہو گا کہ کہیں ڈاکو میرے گھر کو نہ ٹوٹ لیں۔پاکستان کا بھی جب تک قیام نہیں ہوا تھا اس کی مخالفت کا صحیح طور پر جذبہ پاکستان کے مخالفوں کے دلوں میں پیدا نہیں ہوا تھا جیس طرح کسی شخص کے گھر پر ڈاکہ ڈالنے کا خیال لوگوں کو نہیں آسکہ آجس نے ابھی تک اپنی کسی کنیم کو چلایا ہی نہ ہو۔جب تک پاکستان قائم نہیں ہوا تھا دشمن سمجھتا تھا کہ پاکستان کا خیال مجنونوں کی ایک بڑ ہے۔اور گو ایک حصہ مخالفت بھی کرتا تھا مگر بعض لوگ اِس وجہ سے مخالفت نہیں کرتے تھے که جو چیز ابھی بنی ہی نہیں اس کی ہم مخالفت کیوں کریں یا کم سے کم وہ شدید مخالفت نہیں کرتے تھے لیکن جب پاکستان وجود میں آگیا تو جو اس کے مخالف تھے وہ پاکستان کے قیام میں اپنی سکیموں کی تباہی دیکھ رہے تھے ان کی مخالفت کا جذبہ بھڑک اُٹھا اور انہوں نے سمجھا کہ اب ہمیں اس کو ٹانے کی پوری کوشش کرنی چاہئیے۔لیکن جہاں ایک طرف ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کسی چیز کے حصول کے بعد میں لغت بڑھ جاتی ہے وہاں دوسری طرف ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ جب کوئی چیز مل جاتی ہے تو بسا اوقات اس چیز کو حاصل کرنے والے کے دل سے اس کی عظمت مٹ جاتی ہے اور وہ اس چیز کو کھو بیٹھتا ہے۔چنانچہ دنیا میں کثرت کے ساتھ ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بعض لوگوں نے بڑے بڑے کام کئے اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے سرتوڑ کوششیں کیں مگر جب مقصد حاصل ہو گیا تو مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور اس طرح وہ چیز جس کے حصول کے لئے انہوں نے سالہا سال قربانیاں کی تھیں اسے اپنی غفلت سے ضائع کر بیٹھے۔آج سے تین سال پہلے جب بلقان کی ریاستوں اور ٹرکی کی آپس میں جنگ ہوئی تو نیقانی ریاستیں جیت گئیں اور ٹرکی شکست کھا گیا مگر جب اسے شکست ہو گئی تو بلقانی ریاستوں میں بال بانٹے پر آپس میں لڑائی شروع ہو گئی اور وہی لوگ جو پہلے متحد ہو کر ٹرکی کے مقابلہ میں صف آراء تھے آپس میں لڑنے لگ گئے نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں کئی علاقے لڑکی کو واپس کرنے پڑے۔غرض دنیا میں ایسی بیسیوں مثالیں ملتی ہیں کہ جب تک جنگ جاری رہی لوگ قربانی کرتے رہے مگر جب کامیابی ہوگئی |