تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 348
۳۴۵ تو یکیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کسی چیز کا حصول ایک علیحدہ امر ہے اور اس چیز کے حاصل ہو جانے کے بعد ایسے قائم رکھنا بالکل علیحدہ بات ہے۔ایسے واقعات تو دنیا میں کثرت کے ساتھ ہل جائیں گے کہ کسی شخص کو کوئی چیز آپ ہی آپ مل گئی ہو مگر اس امرکی کوئی ایک مثال بھی نہیں مل سکتی کہ کوئی چیز آپ ہی آپ قائم رہی ہو۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کسی پر مہربان ہو کہ اسے مکان دیدے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسے کہیں سے روپوؤں کی تحصیلی مل جائے یا اسے نوٹوں کا بینڈل کسی جگہ سے ہل جائے مگر یہ مثال دنیا میں کہیں نظر نہیں آئے گی کہ کوئی شخص اپنے مکان کی مرمت کا خیال تک نہ کرے اور اس کی صفائی کی طرف توجہ نہ کرے اور اتفاقی طور پر وہ مکان آپ ہی آپ صحیح اور درست حالت میں چلتا چلا جائے۔یہ تو ممکن ہے کہ کسی کو اتفاقی طور پر روپوؤں کی کوئی تھیلی مل جائے مگر یہ ممکن نہیں کہ اتفاقی طور پر وہ آپ ہی آپ خرچ ہوتی رہے۔اسی طرح زمین آپ ہی آپ مل سکتی ہے۔جائیداد آپ ہی آپ مل سکتی ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ زمین اور جائیداد بغیر ہماری توجہ کے آپ ہی آپ قائم رہے۔یہی حال پاکستان کا ہے۔پاکستان کا حصول اور پاکستان کے قیام کا سوال دونوں علیحدہ علیحدہ امر ہیں۔میں سمجھتا ہوں وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کے حصول کے لئے قربانیاں کی تھیں وہ بھی یہ نہیں سمجھ سکتے تھے کہ پاکستان اتنی جلدی اور ایسی صورت میں مل جائے گا ہم اس امر سے انکار نہیں کر سکتے کہ ایک گروہ نے اس غرض کے لئے بڑی بھاری قربانیاں کی ہیں اور بہت بڑی مشکلات کا اسے سامنا کرنا پڑا ہے مگر ہم اس امر سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ جس رنگ میں پاکستان ملا ہے اس میں صرف انسانی کوششوں کا دخل نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل کا بھی بہت بڑا حصہ ہے جس نے ان کوششوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔اب ہمارے سامنے یہ سوال ہے کہ پاکستان کا مستقبل کیسا ہو؟ اگر کسی کو کوئی اچھی عمارت پہل جائے اور وہ اسے اپنی عدم توجہ سے بگاڑ دے تو دنیا اسے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتی بلکہ اگر اس عمارت کو وہ اسی حالت میں رہنے دے جس حالت میں وہ عمارت، اسے ملی تھی تب بھی وہ تعریف کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔تعریف کے قابل وہ تب سمجھا جاتا ہے جب وہ اسے پہلے سے بہت اچھی حالت میں چھو ڑ جائے۔پس ہمیں اس سوال پر غور کرتے ہوئے کہ پاکستان کا مستقبل کیس طرح اچھا بنایا جا سکتا ہے یہ امر یا درکھنا چاہئیے کہ اصل مقابلہ اسی وقت شروع ہوتا ہے