تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 350
۳۴۷ تو انہوں نے آپس میں لڑنا شروع کر دیا اور وہ اتحاد و یک جہتی سے رہنے کی بجائے متفرق ہو گئے نتیجہ یہ ہوا کہ جو چیز آچکی تھی وہ بھی ان کے ہاتھوں سے جاتی رہی۔اصل بات یہ ہے کہ جب تک خطرہ سامنے ہوتا ہے لوگوں کے دلوں میں بہت خوش ہوتا ہے لیکن جب خطرہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے تو وہ مطمئن ہو جاتے ہیں حالانکہ خطرہ بدستور موجود ہوتا ہے۔بیمار کی حالت جب تک خراب ہوتی ہے تیمار دار بھی اور ڈاکٹر بھی بڑی توجہ سے علاج کرتے رہتے ہیں لیکن لبسا اوقات جب بیمار کی طبیعت سنبھال لیتی ہے تو ڈاکٹر بھی سمجھ لیتے ہیں کہ اسے آرام آرہا ہے اور تیمار دار بھی اِس خیال سے کہ اب تو اسے افاقہ ہے اِدھر اُدھر چلے جاتے ہیں۔یا تھکے ہوئے ہوں تو لیٹ جاتے ہیں مگر اس دوران میں مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے۔یہی حال قوموں کا ہے جب وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو خطرات ان کی نگاہ سے اوجھل ہو جاتے ہیں اور وہ شستی سلسله یاد اور غفلت کا شکار ہو جاتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دشمن ہوشیار ہو کر فائدہ اُٹھا لیتا ہے۔پاکستان کی حالت بھی اس وقت ایسی ہی ہے۔پاکستان نام ہے اس ملک کے ایک ٹکڑے کا جیسے پہلے ہندوستان کہا جاتا تھا۔۔جس ملک کا یہ ٹکڑا ہے وہ ملک زندہ ہے۔اگر سارے ملک کا نام پاکستان ہوتا تو خطرہ کی کوئی صورت نہیں تھی مگر اب تین چوتھائی سے زیادہ حقہ زندہ موجود ہے اور پا کو کاٹ کر الگ کر دیا گیا ہے پس پاکستان کے قیام سے خطرات دور نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے بڑھ گئے ہیں کیونکہ ہمارا ہمسایہ سمجھتا ہے کہ اسے پاکستان کے قیام سے سخت نقصان پہنچا ہے۔اس میں بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ مشرقی پنجاب میں مسلمانوں پر جو مظالم ہوئے تھے انہوں نے مسلمانوں میں جذبہ انتقام اتنا شدید طور پر پیدا کر دیا ہے کہ آپ مسلمانوں کی طاقت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔در حقیقت دنیا میں دو ہی چیزیں طاقت اور قوت کو بڑھاتی ہیں۔جذبہ محبت یا جذبہ انتقام۔مائیکل جذبہ محبت کی وجہ سے بعض دفعہ ایسے ایسے کام کر جاتی ہیں جو عام حالات میں بالکل ناممکن نظر آتے ہیں۔اِس طرح جب کسی کو شدید صدمہ پہنچتا ہے تب بھی اس کے انتقام کا جذبہ تیز ہو جاتا ہے اسی وجہ سے محبت اور انتقام کے جذبہ کو جنون کہتے ہیں، کیونکہ جنون کی حالت میں مجنوں کی طاقتیں بہت بڑھ جاتی ہیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب بدر کی جنگ ہوئی تو مسلمانوں کی طرف سے صرف تین سو تیرہ آدمی اس جنگ میں شریک تھے اور وہ بھی بالکل