تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 344 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 344

۳۱ سکتی۔وہ عمارت ٹکڑے ٹکڑے ہو گی تب بھی کچی ہوگئی مکمل ہو گی تب بھی کچی ہوگی اسی طرح جب تک افراد سچے مسلمان نہیں بن جاتے کبھی اسلامی حکومت قائم نہیں ہو سکتی کیونکہ کچی اینٹوں کی عمارت پکی عمارت نہیں کہلا سکتی جیسی نیٹ ہو گی ویسی ہی عمارت ہوگی۔اس کے بعد حضور نے مسئلہ کشمیر کی اہمیت بیان فرمائی اور بتایا کہ ہر مسلمان کو اس بارہ میں اپنے فرائض سمجھنے چاہئیں اور میں حد تک ہو سکے مجاہدین کشمیر کی مدد کرنی چاہیئے۔آخر میں حضور نے فرمایا : " آج مسلمانوں پر جو نازک دور آیا ہوا ہے اس میں ان کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ آپس کے اختلافات کو بھول کر متحد ہو جائیں۔اس وقت پاکستان ایسے حالات میں سے گزر رہا ہے کہ ہم کو اپنے تمام اختلافات کو بھلا کر دشمن پر یہ واضح کر دینا چاہئیے کہ اگر پاکستان کی طرف اُس نے نظر اٹھائی تو ہمارا ہر مرد ہر عورت، ہر بچہ اور ہر بوڑھا اپنے آپ کو قربان کر دے گا مگر وہ اس آزادی کو کھونے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوگا۔اگر دنیا پر ہم اپنے اس عزم کو ثابت کر دیں تو میرے نزدیک نوے فیصدی اِس بات کا امکان ہے کہ دشمن پاکستان پر حملہ کرنے کی اگر خواہش بھی رکھتا ہے تو نہیں کرے گا مسلمانوں میں اور کئی کمزوریاں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ مسلمان ابھی بیان دینے سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا بعض دوسری قومیں ڈرتی ہیں۔اور یہ سیدھی بات ہے کہ اگر لاکھوں کروڑوں کی قوم مرنے کے لئے تیار ہو جائے تو اس قوم کو کوئی مار نہیں سکتا۔اگر مسلمان حیثیت قوم یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم مر جائیں گے تو یقینا انہیں مارنے کی کوئی قوم طاقت نہیں لیکن اگر ساری قوم مرنے کے لئے تیار نہیں ہو گی تو وہ ضرور مریں گے۔جب سی تی شرقی پنجاب میں مسلمانوں کو ماررہے تھے تو نئیں مسلمانوں سے بار بار کہتا تھا کہ یہاں سے مکت بھا گور تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ ظالم سے ظالم قوم بھی کبھی اپنے مظالم میں انتہاء تک نہیں پہنچتی ضرور اس کا قدم رک جاتا ہے مگر میری بات کیسی نے نہ سنی۔آپ بھی میں کہتا ہوں کہ اگر چار پانچ کروڑ مسلمان مرنے کے لئے تیار ہو جائے تو دشمن ہتھیار پھینک دیگا کھتی "