تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 345 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 345

۳۴۲ اور اُسے اپنے بدا را دوں کو ترک کرنا پڑے گا۔اگر ہم واقعہ میں آزادی کی قدرو قیمیت کو سمجھتے ہیں تو آزادی کی چھوٹی سے چھوٹی قیمت جان کی قربانی ہوتی ہے۔یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں جان دینا سب سے بڑی قربانی ہے جان دینا سب سے بڑی نہیں بلکہ سب سے چھوٹی قربانی ہے۔اگر مسلمان جان دینے کے لئے تیار ہو جائیں تو لیکن یقین رکھتا ہوں۔اور میرا یقین ایک طرف تاریخ پر مبنی ہے جس کا میں نے کافی مطالعہ کیا ہوا ہے اور دوسری طرف قرآن پر مبنی ہے جو میرا خاص مضمون ہے اور اس لحاظ سے اس میں یہ غلطی کا بھی امکان نہیں کہ اگر مسلمان واقعہ میں مرنے کے لئے تیار ہو جائیں تو میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان ایک دائمی حکومت بن جائے گا مگر میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کے افراد اپنی اولادوں کے لئے ایک لمبا اور شاندار مستقبل قائم کر سکتے ہیں۔لیکن اگر وہ بھاگے تو انہیں یا د رکھنا چاہیئے کہ اب ان کے لئے کوئی بجائے پناہ نہیں۔اب ان کے لئے دو ہی صورتیں ہیں یا تو دشمن سے لڑ کو عزت کی موت مریں یا کراچی کے سمندر میں غرق ہو کر ذلت اور لعنت کی موت مریں۔دنیا میں کون انسان ہمیشہ زندہ رہ سکتا ہے کسی کو پتہ ہے کہ اس کی کتنی زندگی ہے۔جب شام کو ایک شخص مہینہ سے مرسکتا ہے جب ہمارے باپ دادا مرتے پہلے آئے اور جب ہم نے بھی ایک دن مرنا ہے تو اگر ہم عزت کی موت مرنا چاہتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم بہادری سے اپنی جان دینے کے لئے تیار رہیں۔اگر ہم ایسا کریں گے اور اگر اس ارادہ اور نیت سے ہم اپنی جہان دینے کے لئے تیار ہو جائیں گے کہ ہندوستان میں یہ آخری جگہ جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا قائم ہے اسے ہم سرنگوں نہیں ہونے دیں گے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ ہمارا خدا یہ بے غیرتی دکھائے کہ وہ ہمیں تباہ کر دے اور مسلمانوں کو دشمن کے ہاتھوں بالکل مٹنے دے ہیں حضور کی یہ ایمان افروز تقریہ قریباً ایک گھنٹہ تک مہاری رہی۔یہ تمام تقریر جو نہایت اہم نکات اور بیش قیمت نصائح پر مشتمل تھی تمام معززین نے انتہائی دلچسپی، پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ شستی اور وہ حضور کے قیمتی خیالات سے بہت متاثر ہوئے اور تقریر کے بعد سب معزز مہمانوں ه الفضل ۲۶ احسان جون هم ۴۳۰ - ۶۱۹۲۸