تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 343 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 343

۳۴۰ پڑھو گے تو چھ ماہ قید کی سزا دے دی جائے گی۔جب پاکستان میں اس قسم کا بھی کوئی قانون نہیں تو اگر ہم واقعہ میں مسلمان ہیں تو ہمیں محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے بنائے ہوئے قانون پر خود بخود عمل شروع کر دینا چاہیے۔کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقر کہ وہ قانون سے پاکستان کا قانون زیادہ موثر ہوگا۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون پر عمل کرتے ہوئے آج سارے مسلمان نمازیں پڑھنے لگ جائیں، ساری ویران مساجد آباد ہو جائیں تو کونسی گورنمنٹ انہیں اس سے روک سکتی ہے ؟ پس بجائے اس کے کہ لوگ یہ مطالبہ کریں کہ پاکستان میں اسلامی آئین نافذ ہونا چاہیئے ان کو اسلامی آئین خود اپنے نفوس میں جاری کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔میرا یقین ہے کہ بر سر اقتدار لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب مسلمان آئین اسلام کا مطالبہ کرتے ہیں تو آئین اسلام کے نفاذ کا مطالبہ محق وزارتوں کی تبدیلی کے لئے ہوتا ہے کیونکہ بعض اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وزارتوں کے ہم حقدار ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سب سے بہتر طریق لوگوں میں کسی وزارت کے خلاف جوش پھیلانے کا یہی ہے کہ شور مچا دیا جائے کہ وزراء آئین اسلام جباری نہیں کرتے ورنہ وہ خود بھی وہی کچھ کریں جو آج کل کیا جا رہا ہے۔لیکن مانتا ہوں کہ بعض چیزیں ایسی بھی ہیں جو حکومت کے اختیار میں ہیں ہمارے اختیار میں نہیں مگر اس بارہ میں بھی حکومت کی طرف سے کوئی قدم اس لئے نہیں اٹھایا جاتا کہ وزراء اور لیڈر یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کا مطالبہ کرنے والے خود سنجیدہ نہیں۔اگر سنجیدہ ہوتے تو اپنے گھروں میں اسلامی آئین پر کیوں عمل نہ کرتے با غرض ہمارے لئے سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو سچا مسلمان بنانے کی کوشش کریں اور قرآن کریم کے ہر حکم پر عمل کریں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے مرد و عورت کے اختلاط کو منع کیا ہے مگر سینما سارے کے سارے مرد و عورت کے اختلاط کا نتیجہ ہوتے ہیں سینما کی فلم بن ہی نہیں سکتی جب تک مرد اور عورت اکٹھے نہ ہوں لیکن اگر سینما کے خلاف ہی آواز اٹھائی جائے تو آئین اسلام کے نفاذ کا شور مچانے والے سب سے پہلے اس کی مخالفت پر اتر آئیں۔پس ضروری ہے کہ ہم پہلے افراد کو سچا مسلمان بنانے کی کوشش کریں کچھی اینٹوں سے جو عمارت تعمیر کی جائے وہ کبھی بھی نہیں ہو !