تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 332
۳۳۱ حضور و احسان ارجون بروزید حالاہور سے پاکستان میل میں عازم کو ئٹہ ہوئے لیا اسٹیشن پر حضور کو الوداع کہنے کے لئے جماعت احمدیہ لاہور کے بہت سے معززین موجود تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دیگر افراد کے علاوہ حضرت نواب محمد دین صاحب، پینوہدری اسد اللہ خان صاحب، حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد ایم۔اسے اور شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور بھی موجود تھے۔میاں غلام محمد صاحب اختر ڈویژنل پرسنل آفیسر ریلوے لاہور ہمرکاب ہوئے اور ملتان چھاؤنی تک حضور کے ساتھ رہے اور سٹیشن پر حضور اور حضور کے اہل بیت کی سہولت اور آرام کا خیال رکھتے رہے۔حضور معہ اہل بہت ساڑھے نو بجے صبح بذریعہ کار رتن باغ سے لاہور ریلوے اسٹیشن پر تشریف لائے اور ان تمام دوستوں کو حضور نے شرف مصافحہ عطافرمایا جو حضور کی مشایعت کے لئے ریلوے اسٹیشن پر موجود تھے۔گاڑی دس بجے صبح لاہور سے روانہ ہوئی راستہ میں لاہور سے روہڑی تک مندرجہ ذیل احمدی جماعتوں نے اپنی سابقہ روایات کے مطابق نہایت جوش و خروش سے اپنے مقدس آقا کا استقبال کیا۔رائے ونڈا پتو کی، اوکاڑہ منٹگمری ، میاں چنوں، خانیوال، ملتان چھاؤنی ، لودھراں بہاولپور۔بہاولپور سٹیشن سے رات کا سفر شروع ہو گیا جو روٹری تک جاری رہا۔روٹری صبح چار بجے کے قریب گاڑی پہنچی۔یہاں سے کوئٹہ کے لئے گاڑی تبدیل کرنا پڑتی تھی مگر حضور اور اہل بیت کے لئے چونکہ سیکنڈ کلاس کے کمپارٹمنٹ ریزرو تھے اس لئے وہ کمپارٹمنٹ پاکستان میں سے کاٹ کر کوئٹہ پہیل کے ساتھ لگا دیئے گئے۔روہڑی سے گاڑی چھے بجکر بیس منٹ پر روانہ ہوئی اور بارہ بجکر پندرہ منٹ پر سیتی اسٹیشن پر پہنچی میکرم ڈاکٹر عبدالحمید صاحب ڈی۔ایم۔اومعہ اپنے بچوں کے حضور کے ے اس سفر میں حضرت ام المومنین ، حضور کے چاروں حرم ، حضرت نواب مبار که بیگم صاحبه اسیده آصفه ستوده صاحبہ بنت حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ، بیگم صاحبہ حضرت میر محمد اسمعیل صاحب، اور حضور کے بچوں میں سے سیده امتد النصیر صاحبه استیده امته الجمیل صاحبه، سیده امتہ المتین صاحبہ اور صاجزادہ مرزا رفیق احمد نصاب حضور کے ساتھ تھے خدام کا قافلہ اس کے علاوہ تھا۔اہل بیت ، خدام اور خادمات سب کو شامل کر کے یہ قافلہ سینتالیس افراد تک جا پہنچا * +