تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 297 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 297

۲۹۷ انہوں نے کہا آپ تو لاہور بھی خطرہ میں ہے۔بتائیے کیا کیا جائے ؟ میں نے کہا لاہور کو ہی خطرہ نہیں سارا پاکستان خطرہ میں ہے۔جب تم نے پاکستان مانگا تھا تو یہ سمجھے کہ مانگا تھا کہ صرف اتنا ٹکڑہ ہمیں ملے گا اس سے زیادہ نہیں۔اور یہ سمجھ کر مانگا تھا کہ روپیہ ہمارے پاس کم ہوگا ، سامان ہمارے پاس کم ہو گا اور ہمیں اپنی حفاظت کے لئے بہت بڑی جد و جہد سے کام لینا پڑے گا یہ نہیں کہ آپ نے مانگا زیادہ تھا اور ملا کم۔یا آپ نے تو ہندوستان کا اکثر حصہ مانگا تھا اور آپ کو اس کا ایک قلیل حصہ دے دیا گیا ہے بلکہ جو کچھ آپ لوگوں نے مانگا تھا وہ قریب قریب آپ کو مل گیا ہے۔اور یہ خطرات جو آج آپ کو نظر آرہے ہیں اُس وقت بھی آپ کے سامنے تھے اس لئے یہ کوئی نئے خطرات نہیں۔پاکستان کے لئے یہ خطرات ضروری تھے۔اور اب جبکہ پاکستان قائم ہو چکا ہے پاکستان کے لئے دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے یا تو وہ فتح پائے گا یا مارا جائے گا۔اگر تم فتح حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہیں بھاگنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اور اگر تم شکست کھانا چاہتے ہو تو یا درکھو دُنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جو مغربی پاکستان کے تین کروڑ مسلمانوں کو پناہ دے سکے یا مغربی اور مشرقی پاکستان کے سات کروڑ مسلمانوں کو پناہ دے سکے مشرقی پنجاب میں سے صرف ساٹھ لاکھ مسلمان اِدھر منتقل ہوئے تھے مگر ابھی تک لاکھوں لا لکھ آدمی اِدھر اُدھر پھر رہا ہے اور اُسے رہنے کے لئے کوئی ٹھکانا نہیں ملا۔حالانکہ وہ لاکھوں آدمی اپنی مرضی سے نہیں آیا تھا خو د پاکستان کی حکومت نے ان کو بلوایا تھا یہ کہ کو بلوایا تھا کہ ہم مشرقی پنجاب کی حکومت سے معاہدہ کر چکے ہیں کہ اُس طرف کے مسلمان اِدھر آجائیں اور اِس طرت کے ہندو اُدھر چلے جائیں۔انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ ہم تمہاری مدد کریں گے ، تمہارے لئے زمینوں اور مکانوں کا انتظام کریں گے تم اپنے گھروں کو چھوڑو اور مغربی پنجاب میں آجاؤ۔اِسی اُمید پر انہوں نے اپنے وطن چھوڑ اور اسی امید پر وہ مغربی پنجاب میں آئے بہم جو قادیان کے رہنے والے ہیں صرف ہماری ایک مثالی ہے کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ قادیان کو چھوڑیں ہم ایک چھوٹی سی بستی میں رہتے تھے اور ہمارا ارادہ تھا کہ اگر اردگرد کے دیہات اور شہروں میں