تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 296
کا پنجاب کے ساتھ تعلق قائم رہ سکے۔کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا پاکستان کے دفاع کے نقطہ نگاہ سے یہ ایک اہم سوال ہے۔اگر کشمیر انڈین یونین میں چلا گیا تو انڈین یونین کی روس کے ساتھ سر عدیل بجانے کی وجہ سے اسے ایک بین الاقوامی حیثیت حاصل ہو جائے گی اور مغربی پنجاب کا فوجی خطہ محصور ہو جائے گا۔حضور نے بحری طاقت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا پاکستان کے نوجوانوں کو بحری سفر کرنے اور بیرونی ممالک کی سیر کرنے کا شوق اپنے دلوں میں پیدا کرنا چاہیئے۔حضور نے زرعی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا زراعت کو پاکستان کی سب سے بڑی دولت سمجھا جا رہا ہے لیکن ہمیں ایک بہت بڑے خطرے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے اور وہ یہ کہ پاکستان کے زرعی علاقوں کے متعلق ماہرین کا یہ اندازہ ہے کہ پچاس سال میں یہ علاقے بالکل بے کار ہو جائیں گے اور اس کے آثار بھی ظاہر ہورہے ہیں۔اس خطرہ کی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں ضرر رساں نمک بڑی کثرت سے پایا جاتا ہے۔نہروں کی وجہ سے پانی کی سطح اونچی ہو رہی ہے اور زمین شور اور سیم والی ہوتی بھاتی ہے لیے حضور کی یہ ایمان افروز تقریر سات بجے شام ختم ہوئی۔ر امان مارچ کو حضرت امیر المومنین نے مقامی تھیو سافیکل ہال میں خواتین اسلام سے مجنہ اماءاللہ کی درخواست پر تھیں افیکل پان انقلاب انگیز خطاب بندر روڈ کراچی میں مستورات کو خطاب فرمایا ر اس جلسہ میں تقریباً ساڑھے چھ سو احمدی و غیر احمدی خواتین شریک ہوئیں جنہوں نے ہمہ تن گوش ہو کر تقریر ینی اور بہت متاثر ہوئیں کیا حضور کی اثر انگیز تقریر کابنیادی مقصد خواتین اسلام کو دعا اور قربانی اور ایثار کے لئے سرگرم عمل کر نا تھا۔چنانچہ حضور نے اپنی اس تقریر میں سورہ کوثر کی نہایت ایمان افروز تفسیر کرتے ہوئے نہایت لطیف پیرایہ میں استنباط فرمایا کہ پاکستان کا استحکام دعا اور قربانی سے وابستہ ہے حضور نے تقریر کے اختتامی حصہ میں نہایت پر جلال اور پر شوکت الفاظ میں فرمایا :- یکی جب قادیان سے لاہور آیا تو بعض بڑے بڑے آدمی مجھ سے ملنے کے لئے آئے اور ا الفضل و در امان مورچه ها ۱۳۲۷ ۴-۳۰ : ٥ همه الفضل بیکم شهادت / اپریل امن کا لم