تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 298
۲۹۸ رہنے والے مسلمان اتحاد کر لیں تو اس علاقہ کو نہ چھوڑا جائے مگر چند دنوں کے اندر اندر سارا مشرقی پنجاب خالی ہوگیا مگر با وجود اس کے کہ وہ وہاں سے بھاگے اور اس خیال سے بھاگے کہ پاکستان میں ہمارے لئے جگہ موجود ہے پھر بھی وہ آج چاروں طرف خانہ بدوش قوموں کی طرح پھر رہے ہیں اور انہیں کوئی ٹھکانا نظر نہیں آتا۔ان کا یہ خیال کہ ہمیں پاکستان میں جگہ مل جائے گی غلط تھا یا صحیح پسوال یہ ہے کہ اگر مشرقی پنجاب کے ساٹھ لاکھ مسلمانوں کو پاکستان پنا ہ نہیں دے سکا تو پاکستان کے تین کروڑ مسلمانوں کو کیا بلوچستان پناہ دے گا نہیں کی اپنی آبادی چاہئیں لاکھ کے قریب ہے۔کیا ایران پناہ دے گا؟ جس کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے۔کیا عرب پناہ دے گا ؟ جس کی آبادی ۷۰ ۸۰ لاکھ ہے۔کیا افغانستان پناہ دے گا، چین کی آبادی ایک کروڑ سے زیادہ نہیں۔آخر کونسا اسلامی ملک ہے جس میں تین کروڑ مسلما نو کے سمانے کی گنجائش موجود ہے۔اگر پاکستان نے شکست کھائی تو یقیناً اس کے لئے موت ہے۔پاکستان میں بھی موت ہے اور پاکستان سے باہر بھی موت ہے۔اور جب موت ایک لازمی چیز ہے تو اب سوال یہ نہیں رہ جاتا کہ مسلمان جائیں کہاں؟ بلکہ مسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ لاہور کے آگے لڑتے ہوئے مارے جائیں یا کراچی کے سمت دریں غرق ہو کر مریں۔میں نے کہا یہ دونوں موتیں آپ لوگوں کے سامنے ہیں آپ آپ خود ہی فصیلہ کر لیں کہ آپ کو نسی موت قبول کرنا چاہتے ہیں ؟ کیا آپ لاہور کے سامنے دشمن سے لڑتے ہوئے مرنا زیادہ پسند کرتے ہیں یا یہ پسند کرتے ہیں کہ بھاگتے ہوئے کہ اچھی کے سمندر میں غرق ہو جائیں اور بارے جائیں ؟ بہر حال پاکستان کے لئے آپ سوائے اس کے اور کوئی چیز نہیں کہ یا فتح یا موت۔دوسرے ملکوں کے لئے تو یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی جگہ تبدیل کرئیں کیونکہ ان کی آبادی تھوڑی ہے لیکن پاکستان کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ کوئی اسلامی ملک ایک انہیں جو پاکستان کے لوگوں کو پناہ دے سکے کسی ملک سے پاکستان کی آبادی دو گنتی ہے اور کسی ملک سے تین گھنی۔اس لئے کوئی ملک ایسا نہیں نہیں میں پاکستان کے لوگ سما سکیں بلکہ ان ممالک میں پاکستان کی نہیں فیصدی آبادی کا لیسانا بھی نا ممکن ہے