تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 285 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 285

۲۸۵ دنیا میں کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔وہ نہ سن سکتے ہیں اور نہ بول سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں اور ہر قسم کی قید ان پر وارد ہے۔وہ آپ لوگوں کی نسبت بدرجہا سخت قید میں ہیں مگر پھر بھی وہ اپنی زندگی کو بسر کر رہے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ان کی زندگی ختم کر دی بھائے۔آپ لوگوں پر جو یہ حالت آئی ہے یہ خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی آئی ہے آپ کو اس کا فائدہ اُٹھانا چاہیئے تا کہ جب اس حالت سے آپ لوگ باہر آئیں تو آپ کی حالت وہ نہ ہو جو داخل ہونے کے وقت تھی بلکہ اپنے نفس کی اصلاح کی اعلیٰ درجہ کی حالت میں آپ لوگ باہر آئیں اور ایسے پاک اور صاف ہو کر نکلیں کہ جس سے دنیا کو روحانی نفع پہنچے۔اس ارشاد کے بعد حضور واپس قیام گاہ پر تشریف لائے اور مغرب و عشاء کی نمازیں ادا فرمائیں نماز سے فارغ ہونے کے بعد نارنول ریاست پٹیالہ کے ایک غیر احمدی دوست نے جو مسلم لیگ کے سرگرم کارکن رہے تھے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں پر بہت سی باتیں ایسی گھڑتی رہتی ہیں جن سے لوگوں کو اطمینانِ قلب حاصل ہوتا ہے اس لئے میں بھی حضور کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا ہوں میری گزارش یہ ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں پر جو بیمثال تباہی آئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے اب اسلام اور مسلمانوں کا کیا بنے گا اور وہ کس طرح ترقی کر سکیں گے۔حضرت امیر المومنین نے فرمایا یہ کہنا درست نہیں کہ مسلمانوں پر جو تنہا ہی آئی ہے یہ اپنی ذات میں بے مثال ہے بلکہ اس سے پہلے بھی مسلمانوں پر بڑی بڑی تباہیاں آچکی ہیں چنانچہ اس ضمن میں سپیکین اور بغداد کی تباہی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ سپین میں جو تبا ہی آئی تھی وہ اس قسم کی تھی کہ کوئی ایک فرد بھی مسلمانوں میں سے نہیں بچا حالانکہ سپین میں مسلمانوں کا وہ عروج تھا کہ تمام یورپ پر انکا رعب اور دبدبہ چھایا ہوا تھا۔پھر پنجاب کو کوئی مرکزی حیثیت حاصل نہیں تھی مگر بغداد جب تباہ ہوا تو وہ مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔پس اس تباہی اور اُس تباہی میں بڑا فرق ہے۔اس وقت گو لا کھوں مسلمان مارے گئے ہیں مگر لاکھوں بچے کو بھی نکل آئے ہیں حالانکہ سپین میں سے کوئی بھی بیچ کر نہیں نکل سکا تھا۔رہا یہ سوال کہ مسلمانوں کا اب کیا بنے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب ہم اسلام اور محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر یقین رکھتے ہیں تو ہمارے لئے یہ سوال کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا