تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 284 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 284

۲۸۳ میر اوپر خاص ہیں، خان بہادر غلام حسین صاحب کی کوٹھی پر حضور نے قیام فرمایا۔پانچ سنجے خان بهادر غلام حسین صاحب نے حضور کے اعزاز میں اپنے رہائشی مکان پر دعوت چائے دی جس میں حضور شریک ہوئے۔اور بھی بہت سے مقامی معززین اس دعوت میں شریک تھے۔4 بجے شام کے قریب حضرت امیر المومنین المصلح الموعود میر اوپر خاص کے بعض محبوس احمدیوں کو دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے۔یہ احمدی دوست جن میں سے اکثر واقف زندگی تھے عرصہ چھ سات ناہ سے محمد آباد اسٹیٹ کی زمین میں ایک فساد کے سلسلہ میں زیرا اعزام تھے حضور کے تشریف لے جانے پر جیل کے افسر صاحب کے حکم کے مطابق اس بے ماخوذین کو برآمدہ میں لائے بجانے کی اجازت دی گئی۔اس جگہ سب دوستوں نے یکے بعد دیگرے حضور سے مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔حضور نے دو نیست فرمایا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھنے میں سہولت ہے یعنی وضوء وغیرہ کے لئے پانی مل جاتا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نماز کی سہولت ہے ہم نماز ادا کر لیتے ہیں۔وضوء کے لئے قریب کی جگہ سے پانی لے آتے ہیں۔پھر حضور نے فرمایا ماہ رمضان میں بھی آپ اس جگہ تھے روزے رکھ سکتے تھے یا نہیں ؟ انہوں نے بتا یا کہ ہم نے رمضان کے روزے رکھے تھے۔ہم شام کو ہی دو نوا، وقت کا کھانا پکا لیا کرتے تھے کیونکہ سحری کے وقت آگ وغیرہ جلانے کی اجازت نہ تھی۔پھر کچھ سکوت کے بعد حضور نے انہیں مطلب کرتے ہوئے ایک مختصر تقریر فرمائی جس کا ملخص یہ تھا کہ آپ لوگوں کو استغفارا اور دعا کرتے رہنا چاہیئے اور یہ بھی خیال نہیں آنا چاہیئے کہ ہم بے قصور ہیں خواہ موجودہ الزام غلط ہی ہو کیونکہ کہا اوقات اللہ تعالٰی مومن کی بعض غلطیوں کی سزا دہی میں پردہ پوشی سے کام لیتا ہے اور بظاہر ایسے الزام کے ذریعہ تکلیف میں ڈال دیتا ہے جس الزام کے متعلق مومن جانتا ہے کہ یہ الزام غلط ہے۔اس طرح اس کو تکلیف تو اس غلطی کی وجہ سے جو پہلے اس سے ہوئی ہے پہنچ جاتی ہے مگر منرا یا تکلیف ایسے رنگ میں اسے پہنچتی ہے جس کی وجہ سے اول تو وہ خود کہتا ہے کہ میں بے قصور ہوں پھر دنیا بھی اس الزام کو درست نہیں سمجھتی اس لئے اس کی کہ سوائی اس طرح نہیں ہوتی جس طرح اُس پہلی غلطی کے الزام میں پھنس جانے اور الزام کے صحیح ثابت ہونے سے ہوتی۔آپ اس وقت، جس حالت میں ہیں وہ بیشک تکلیف دہ ہے کیونکہ قید میں ہونے کے باعث ہر قسم کی آزادی سے محروم ہیں لیکن آپ لوگوں کو ر اتنی بر منا رہنا چاہیئے اور اس حالت کو خوشی سے برداشت کرنا چاہیئے !