تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 286
۲۸۶ قرآن کریم کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں مسلمانوں کے تنزل کی بھی پیش گوئیاں ہیں اور مسلمانوں کی ترقی کی بھی پیش گوئیاں ہیں جب ہم نے اپنی آنکھوں سے قرآن کریم کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتی دیکھ لی ہیں جو مسلمانوں کی تباہی اور ادبار کے متعلق تھیں تو ہمیں یقین رکھنا چا ہئیے کہ الشر تعالی کی پیشنگوئیاں بھی ضرور پوری ہو کر رہیں گی جو مسلمانوں کے دوبارہ خروج اور ترقی کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔باقی رہا یہ امر کہ مسلمان غلبہ حاصل کر سکیں گے ؟ سو یا د رکھنا چاہئیے کہ یہ غلبہ اسی وقت حاص ہو سکتا ہے جب اسلام کی صحیح تصویر ان میں نظر آنے لگے گی۔افسوس ہے کہ ابھی تک مسلمانوں نے اپنی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کی مثلاً اگر اس وقت حکومت پاکستان یہ چاہیے کہ تمام سینماؤں کو بند کرا دے تو مسلمان اس کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔یہی حال پر وہ اور سود وغیرہ مسائل کا ہے۔اگر مسلمان اسلامی احکام پر عمل کرنا اپنے لئے فرض قرار دے لیں تو ان کی ترقی بالکل قطعی اور یقینی ہے مگر مسلمانوں میں یہ زندگی اُسی وقت پیدا ہو سکتی ہے جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کر لیں اور اس سلسلہ میں شامل ہو جائیں جو اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے قائم فرمایا ہے۔اس موقع پر غیر احمدی دوست نے عرض کیا کہ آب تو جماعت احمدیہ اور عام مسلمانوں میں کوئی زیادہ اختلاف نہیں رہا۔اس پر حضرت امیر المومنین نے مسلمانوں کے ان عقائد کا ذکر فرمایا کہ وہ قرآن کریم میں ناسخ و منسوخ کے قائل ہیں اور وحی کو منقطع سمجھتے ہیں حضور نے فرمایا کہ ناسخ ومنسوخ کا مسئلہ ایسا ہے کہ اگر اس کو درست تسلیم کر لیا جائے تو امان اُٹھ جاتا ہے اور قرآن کریم پر پھیل کرنا مسخت مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ جب یہ اعتقاد پیدا کر لیا جائے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیت میں منسوخ ہیں تو نہیں کہا جا سکتا کہ یہ منسوخ ہے یا وہ منسوخ ہے۔اسی طرح مسلمان وحی کو منقطع سمجھتے تھے حالانکہ یہی ایک ایسی چیز ہے جس سے اسلام کا روشن چہرہ لوگوں کو نظر آتا ہے۔اگر آسمان سے تازہ وحی کے نزول کا سلسلہ جاری نہ ہو تو اسلام کا مصفی چہرہ غبار آلود ہو جائے۔رات کا کھانا شیخ بشیر احمد صاحب ایگزیکٹو انجنیٹر کے ہاں تھا اور حضور ان کی کوٹھی پر کھانے کے لئے تشریف لے گئے۔۱۶ تبلیغ ضروری دستی بجے صبح حضور معہ قافلہ میر پور خاص سے کنجیجی بذریعہ ٹرین روانہ ہوئے