تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 283
۲۸۳ حیدر آباد سندھ کے سٹیشنوں پر مختلف جماعتیں موجود تھیں۔اوکاڑہ ہنٹ گری اور خانیوال کے سٹیشنوں پر تو حضور نے گاڑی سے نیچے اتر کر جماعت کے دوستوں سے صافحہ فرمایا مگر باقی سٹیشنوں پر گاڑی میں میٹھے بیٹھے ہی حضور مصافحہ فرماتے رہے۔بعض مقامات پر جماعت کی درخواست پر حضور نے ہاتھ اُٹھا کر دعا بھی فرمائی۔گاڑی جب اوکاڑہ سٹیشن پر پہنچی تو جماعت کے بعض دوستوں نے خوشی میں بندوق سے ہوا میں فائر کئے حضور دوستوں کا اثر و عام دیکھ کر مصافحہ کرنے کے لئے گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر تشریف لے آئے اور مصافحہ کرنے کے بعد دعا شروع کی۔ابھی حضور دعا کر ہی رہے تھے کہ گاڑی حرکت میں آگئی اور دو ایک ڈتوں کے سوا باقی تمام گاڑی پلیٹ فارم سے آگے نکل گئی اس اثناء میں حضور پر تو مصروف دعار ہے۔آخر زنجیر کھینچ کر گاڑی رکوائی گئی اور حضور اپنے ڈبے میں سوار ہوئے منیسٹ گری سٹیشن پر چوہدری نورالدین صاحب ذیلدار نے عرض کیا کہ حضور راستہ میں چک علی کی جماعت آتی ہے اس جماعت کے دوست لائن کے ساتھ حضور کی زیارت کے لئے صف بستہ کھڑے ہوں گے۔اس پر حضور نے دفتر کو ہدایت فرمائی کہ جب وہ مقام قریب آجائے جہاں جماعت کے دوست کھڑے ہوئی تو مجھے اطلاع دی جائے۔چنانچہ ملتی گاڑی میں حضور کی خدمت میں اطلاع عرض کی گئی اور حضور نے کھڑکی کے قریب تشریف لاکر زائرین کو اپنے دیدار سے مشترف فرمایا۔دفتر کی طرف سے جماعتوں کو یہ اطلاع دی گئی تھی کہ چونکہ سفر لمبا ہے اس لئے رات کے دو بجے تک جو جماعتیں اسٹیشن پر آسکتی ہیں وہ آجائیں ملاقات صرف دو بجے تک ہو سکتی ہے اس کے بعد نہیں مگر جب گاڑی روہڑی سٹیشن پر پہنچی تو باوجود اس کے کہ اس وقت بھا ر یا پونے چار بجے شب کا وقت تھا پھر بھی دوست اپنے اخلاص اور عقیدت کی وجہ سے اسٹیشن پر موجود تھے۔چونکہ حضور اس وقت آرام فرما رہے تھے۔اِس لئے وہ بھی صرف حضور کے ڈبے کے سامنے کھڑے رہے انہیں ملاقات کا موقع نہ مل سکا۔اس سفر میں ۱۴ فروری کو دوپہر کا کھانا منٹگمری کی جماعت نے اور شام کا کھانا متان کی حیات نے پیش کیا جو حضور اور منور کے تمام ہمراہیوں کے لئے تھا حضور دار فروری کو انکے صبح حیدر آباد سندھ رونق افروز ہوئے اور پھر معہ اہل بیت اینجے بذریعہ کار عازم میر پور خاص ہوئے اور دو بجے کے قریب حضور میر پور خاص پہنچ گئے۔