تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 281
شہادت / اپریل کو راولپنڈی میں اور ۱۲ احسان جون کو کوئٹہ میں نہایت معلومات افزاء اور روح پر ور پبلک تقاریر فرمائیں جن میں پاکستان کے پیش آمدہ اہم ملکی مسائل میں پاکستانیوں کی راہنمائی کرتے ہوئے نہایت شرح وبسط سے انہیں اپنی قومی ویکی ذمہ داریوں کی بجا آوری کی طرف تو جیبہ بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ : اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔اگر نمازہ کا انہیں اتنا ہی احساس ہے تو اب ہماری نماز ہونے والی ہے مرزا صاحب پھیلیں اور ہمارے پیچھے نماز پڑھ کر دکھا دیں غرض ایک لمبی تقریر اُس نے صرف اسی بات پر کی۔اس وقت میرے دل میں بدظنی پیدا ہوئی کہ شاید پریذیڈنٹ کی مرضی اور ایماء سے یہ تقریر ہو رہی ہے۔بعد میں پریذیڈنٹ صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مجھے تو رقعہ میں یہ دکھا یا گیا تھا کہ میں والٹیروں کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں گر تقریر کسی اور بات پر شروع کر دی گئی ہے۔میری سمجھ میں نہیں آیا کہ تقریر کرنے والے صاحب کا منشاء کیا ہے۔امام جماعت احمدیہ نے اپنی تقریر میں یہ کہا ہے کہ مسلمانوں کو نماز پڑھنی چاہئیے۔نماز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے اور مسجدیں بھی ہماری اپنی ہیں۔انہوں نے صرف توجہ دلائی ہے کہ تم اپنے رسوا کی بات مانو اور مسجدوں میں نمازیں پڑھا کرو۔مگر یہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب ان کے پیچھے نماز پڑھیں۔اگر تو انہوں نے یہ کہا ہوتا کہ مسلمانوں کو میرے پیچھے نمازیں پڑھنی چاہئیں تب بھی کوئی بات تھی وہ کہہ سکتے تھے کہ آپ ہمارے پیچھے پڑھیں یا اگر کہتے کہ مسلمانوں کو احمدیوں کے پیچھے نمازیں پڑھنی چاہئیں تب بھی یہ بات ان کے منہ چھ سچ سکتی تھی کہ اگر ہمیں احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ بھی ہمارے پیچھے پڑھیں لیکن انہوں نے تو ہمارے آقا کی ایک بات ہمیں یاد دلائی ہے۔کیا ہمارا یہ کام ہے کہ ہم اپنے آقا کی بات پر عمل کریں یا یہ کام ہے کہ ہم کہیں جب تک تم ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھو ہم اپنے آقا کے حکم پر بھی عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔غرض انہوں نے اسے خوب رگیرا اور لتاڑا ܀ د الفضل در استریل شده