تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 257 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 257

پروٹسٹ کر کے دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کریں " سے آپ نے کاشت کے واسطے ٹیلوں کی جوڑی وغیرہ کے لئے لکھا ہے۔آپ زمین کا انتظام کریں پھر یہ انتظام بھی انشاء اللہ ہو جائے گا۔مگر زمین ایسی حاصل کرنی چاہیئے جو ہماری مقبوضہ آبادی سے ملتی ہوتا کہ آنے جانے اور نگرانی میں آسانی رہے اور امن شکنی کا خطرہ بھی نہ ہو۔دارالا نوار میں میرا کنواں اور ساتھ والی میاں رشید احمد کی زمین اور دوسرے ملحقہ قطعات اس غرض کے لئے اچھے ہیں۔بچاہ چھلار والا بھی اچھا ہے مگر اس میں اتنا نقص ہے کہ اس کے کھیت ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ مخلوط ہیں۔اراضی تکیہ مرزا کمال الدین مناسب نہیں کیونکہ وہ بالکل ایک طرف نظروں سے اوجھل ہے اور ایسی جگہ میں فساد کا زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔آپ زمین کے زیادہ اچھا ہونے کا خیال نہ کریں بلکہ آنے جانے کی سہولت اور انتظامی سہولت کے پہلو کو مقدم رکھیں " سے * مولوی عبد الرحمن صاحب نے لکھا کہ قادیان میں کوئی ایندھن کا ٹال نہیں ہے۔یہ کام آپ آسانی سے قادیان میں کہ اسکتے ہیں کسی احمدی کو کہہ دیا جائے کہ وہ محمد دین مه مكرم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے کا بیان ہے کہ یہ باغ ایک سکھ نے الاٹ کروالیا تھا لیکن ہماری طرف سے اس کو قبضہ نہیں لینے دیا گیا۔پھر سردار ا مولک سنگھ صاحب مجسٹریٹ درجہ اول ( متعین قادیان) نے اس بارہ میں مقدمہ کی سماعت کی اور بطور تبرک بہشتی مقبرہ کا حقہ تسلیم ہو کر ہمیں مل گیا لیکن گزشتہ سال (ستار، ناقل ہو احد یہ محلہ کے نکاس مکانات کی قریباً سواد دلا کھ رو پیر قیمت طلب کی گئی اور عدم ادائیگی کی صورت میں مرکزی وزارت آبادی نے نیلام کرنے کی دھمکی دی تھی یہ رقم صدر انہیں ادا کر رہی ہے جن میں اس سکھ کی نیش زنی سے بڑے باغ کی قیمت چوالیس ہزار و پیر بھی شامل کر دی گئی ہے۔د مکتوبات اصحاب احمد جلد دوم ) نه مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے نے مکتوبات اصحاب احمد جلد دوم میں لکھا ہے :- اس وقت تو اراضی کا انتظام نہ ہو سکا چند سال بعد بعض درویشوں نے ارد گرد کے فیر سلم مہاجرین سے ٹھیکہ پہ اراضی لے کر کاشت کرنا شروع کی اور اب تک کر پاتے ہیں۔صدر انجمن احمدیہ نیز اس کے صیغہ پراویڈنٹ فنڈ اور بعض درویشوں نے بہشتی مقبرہ کے قریب اراضی خریدیں مگر اب دُور دُور بھی خرید لی گئی ہیں یہ