تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 256
۲۵۶ مرکزہ کا فریضہ بجالانے کے علاوہ دیگر اہم اسلامی خدمات انجام دے رہے تھے۔ذیل میں حضرت میاں صاحب کے بعض خطوط کے چند اقتباسات بطور نمونہ درج کئے جاتے ہیں :۔۱- دینام مکرو می مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ امیر جماعت قادیان) و آپ نے اپنے متفرق خطوط میں چار اغوا شدہ (مسلمان عورتوں کا ذکر کیا ہے جو واپس ہو کہ آپ کے پاس پہنچ چکی ہیں مگر اعلان اور تلاش ورثاء کے لئے آپ نے پورے کوائف درج نہیں کئے۔مہربانی کر کے ایک نقشہ کی صورت میں اطلاع دیں کہ ان عورتوں کے نام اور ولدیت یا زوجیت اور عمر اور اصل سکونت وغیرہ کیا ہے تا کہ ورثاء کی تلاش ۶۱۹۴۷ میں مددیل سکے۔یہ رپورٹ ایک نقشہ کی صورت میں بنا کر بھیجوا دیں (۱۶ دسمبر 9) بنام ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے ) " آپ نے لکھا ہے کہ بہشتی مقبرہ کی دیواروں اور کمرے کی تعمیر کا کام کرایا جارہا ہے اور یہ کہ اس غرض کے لئے وہ انٹیں لی گئی ہیں جو ڈاکٹر حاجی خان صاحب کے مکان کے پاس ہمارے مشترکہ حساب کی لکھی ہوئی تھیں۔الحمد للہ اس سے بہتر مصرف اِن اینٹوں کا کیا ہو سکتا ہے مگر آپ مجھے جو اپنی مطلع فرمائیں کہ بہشتی مقبرہ (میں) کو نسا تعمیری کام ہو رہا ہے۔اور بہتر ہوگا کہ دیوار اور کمرے کا جائے وقوع ایک سرسری نقشہ کی صورت میں تیار کر کے بھیجوائیں۔اس تعمیر کی وجہ سے آپ کا وقار عمل تو خوب ہو رہا ہو گا یا " قادیانی کی ایک رپورٹ میں یہ ذکر تھا کہ بڑا باغ بھی سیکھوں کے قبضہ میں ہے۔اس سے منکر ہوا کیونکہ بڑا باغ حضرت اماں جان والا پرانا باغ کہلاتا ہے اور وہ اس رقبہ میں شامل ہے جس پر ہم اپنا قبضہ سمجھتے رہے ہیں اور قادیان میں حکام کو جو نقشہ دیا گیا دیا تھا اس میں بھی بڑا باغ ہمارے قبضہ میں دکھا یا گیا تھا۔علاوہ ازیں یہ باغ حلقہ مسجد مبارک اور بہشتی مقبرہ کے درمیان واقع ہے اور اگر اس پر دوسروں کا قبضہ ہو تو بہشتی مقبرہ اور ہمارے آدمیوں کی آمدورفت دونوں خطرہ میں پڑ سکتے ہیں آپ اس کے متعلق ہواپسی جواب دیں۔اور اگر وہ نود انخواستہ قبضہ سے نکل چکا ہو تو اس کے متعلق i 1