تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 231 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 231

۲۳۱ اس لئے ہم اور لیس کو واپس نہیں بلا سکتے۔راناؤ میں میرا قیام ایک ہیڈ ماسٹرابیر نامی کے گھر میں تھا ہیڈ ماسٹر صاحب کو ہر روز تبلیغ کا موقع ملتا تھا۔میرے کچھ عرصہ قیام کے بعد ہیڈ ماسٹر صاحب اور ایک اور سابق سکول ماسٹر صاحب نے بیعت کر لی۔یہ دونوں احمدی دوست رانا ؤمیں صاحب اثر و رسوخ تھے۔ہیڈ ماسٹر صاحب وہاں میرے قیام کے دوران جبکہ ابھی وہ احمدی نہ ہوئے تھے وہاں کی مسلم ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری تھے۔عید کے دن مسلم ایسوسی ایشن کی جنرل میٹنگ تھی انہوں نے اپنی مجلس عاملہ سے پوچھا کہ اجلاس کہاں کیا بجائے مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا کہ عید کی نماز کے بعد مسجد میں اجلاس ہو گا۔ہمارے احمدی دوست نے بتایا کہ میں چونکہ احمدی ہو گیا ہوں یاں عید کی نماز احمدی مبلغ کے ساتھ اپنے گھر میں پڑھوں گا عید کی نماز پڑھنے کے بعد ہی میں مسجد میں میٹنگ کے لئے حاضر ہو سکونگا ہمارے احمدی دوست عید کی نماز ہمارے ساتھ پڑھنے کے بعد جب مسجدیں میٹنگ کے لئے گئے اور وہاں اجلاس شروع ہوا تو امام نے وہاں پر میٹنگ میں گڑ بڑ کی کہ تم قادیانی کیوں ہو گئے ہو ؟ اسی گڑ بڑ میں ایسوسی ایشن کی میٹنگ کی کاروائی بھی مکمل نہ ہو سکی۔میں چونکہ رانا ؤمیں مسلسل تین ماہ سے قیام پذیر تھا۔راناؤ میں خوراک مناسب حال نہ ہونے کی وجہ سے نیز دوسری جماعتوں کا دورہ کرنے کے لئے رانا ؤ میں عید پڑھا کر یں مبیلٹن آگیا۔اس دوران جبکہ میں ابھی جیلٹن میں تھا بعد میں حکومت نے امام کی طرف سے ہمارے احمدیوں پر مقدمہ دائر کر وا دیا کہ احمدیوں نے مسجد میں آکر فتنہ و فساد اور گڑ بڑ کی ہے۔دو دن تک مقدمہ کی سماعت ، دتی رہی جس میں ہمارے احمدی دوستوں سے سوالات کئے گئے کہ تم احمدی کیوں ہوگئے ہو ہا تم مسجد میں آکر غیر احمدی امام کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ تم نے ایک غیر ملکی احمدی مبلغ کو اپنے گھر میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ وغیرہ۔تمام سوالات کے جواب خدا کے فضل سے ہمارے احمدی دوستوں نے نہایت عمدگی سے دئیے۔حکومت کا چونکہ مقصد یہ تھا کہ احمدیوں کو ڈرا دھمکا کہ احمدیت سے انکار کر وایا جائے دوسرے یہ کہ وہاں کی بجاہل پبلک کو احمدیت سے متنفر کیا جائے اور انکے دل میں یہ ڈالا جائے کہ جب حکومت ان سے نفرت کرتی ہے تو ضرور کوئی مخفی بڑائی ان