تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 232 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 232

۲۳۲ میں ہو گی جس کی وجہ سے حکومت بھی ان کو پسند نہیں کرتی۔ہمارے احمدی دوستوں نے کہا کہ ہم احمدیت کو حقیقی اسلام سمجھتے ہیں احمدیت سے انکار نہیں کر سکتے۔ہمارے احمدیوں کو پچیس پچیس ڈالر جرمانہ کی سزا دی گئی۔جب را ناؤ میں ہمارے احمدی دوستوں پر مقدمہ ہوا اُس وقت یک لینکونگن کی جماعت سے چندہ وصول کرنے کے لئے وہاں دورہ پر گیا ہوا تھا۔جب وہاں سے جیلٹن پہنچا تو مجھے حکومت کی طرف سے تحریری نوٹس دیا گیا کہ حکومت کی فلاں دفعہ کے تحت تم راناؤ کے علاقہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔اس پر جماعت کی طرف سے احتجاج کیا گیا اور سنگا پور اور انڈونیشیا کی جماعتوں نے بھی احتجاجی تاریں بورنیو کی حکومت کو بھجوائیں تو خود گورنر راناؤ کے علاقہ میں تحقیق کے لئے گیا را ناؤ سے مبیلٹن واپسی پر اُس نے ہمیں بلایا اور وعدہ کیا کہ ہم اپنا نوٹس واپس لے لیں گے چنانچہ گورنر کے وعدہ کے مطابق جلد ہی حکومت کی طرف سے تحریری اطلاع آگئی کہ جماعت احمدیہ کا مبلغ جب چاہئے اناؤ جا سکتا ہے۔حکومت کے فتنہ اور احمدیوں کو جرمانہ کی سزا دینے کی وجہ سے راناؤ کے عوام ایک لمبا عرصہ تک ہم سے ڈرتے رہے مگر پھر وہاں خدا کے فضل سے حالات اچھے ہو گئے۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہوئی کہ وہاں کے علاقہ کا چیف امام جو ہمارا شدید مخالف تھا اور ہمارے راستہ میں ایک بڑی روک تھا فوت ہو گیا اور اس کے فوت ہو جانے کی وجہ سے یہ روک دُور ہو گئی ہے۔اب اس کا قائم مقام امام اس کا لڑکا ہے۔اپنے امام منتخب ہونے کے بعد اس نے جو پہلی تقریر کی اس میں اس نے واضح الفاظ میں کہا کہ آئندہ سے وہ احمدیت کے خلاف کوئی بات نہیں کہے گا یاہے مندرجہ بالا بیان میں جس مباحثہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ مولوی محمد سعید مباحثہ را ناؤ صاحب انصاری نے ہر احسان جوان عمل کو کیا جس کی تفصیل مرزا ۲ ۶۱۹۵۵ 51900 محمد ادریس صاحب کی ایک دوسری رپورٹ (مورخہ ۱۲۰ جون ۹۵ ائمہ ) میں بایں الفاظ ملتی ہے :۔} 100۔مئی کو مکرم مولوی محمد سعید صاحب انصاری جیسیلٹی سے رانا ؤ تشریف لائے شاه غیر مطبوعہ رپورٹ دو کاانت تبشیر تم یک جدید ربوہ کے ریکارڈمیں محفوظ ہے )