تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 230
۲۳۰ کے معا بعد عیسائیوں سے ایک پبلک جگہ میں مباحثہ ہوا جس کا مخارا کے فضل سے غیر مسلموں اور غیر احمدیوں پر اچھا اثر پڑا۔ایک غیر سلم چینی دوست نے بعد میں ایک غیر مسلم کو بتایا کہ وہ خود مباحثہ میں موجود تھے ان پر یہی اثر ہے کہ عیسائیت اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔حکومت نے دیکھا کہ راناؤ کے مقامی مسلمانوں میں بیداری پیدا ہو رہی ہے اور انہوں نے احمدی مبلغ سے دینی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی ہے اور نیز یہ کہ احمدیت عیسائیت کا بر ملا مقابلہ کر رہی ہے۔یا ناؤ میں ہر ماہ کی تی ییں تاریخ کو منڈی لگتی ہے جس میں علاقہ کے دور دراز کے لوگ کثرت سے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اس موقع پر اس علاقہ کا انگریز ڈسٹرکٹ آفیسر بھی دورہ پر ہمیشہ آتا ہے۔جب منڈی کے موقع پر انگریز ڈسٹرکٹ آفیسر آیا تو اس نے مجھے اپنے آفس میں ملا کر پوچھا کہ کیا تمہارے پاس ریذیڈنٹ کی طرف سے اس علاقہ میں داخل ہونے کا اجازت نامہ ہے؟ میں نے کہا یہ علاقہ بھی بورنیو کا حصہ ہے کوئی نئی دوسری حکومت نہیں۔ریذیڈنٹ سے اجازت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔کیا حکومت کا یہ قانون ہے کہ رانا ڈیں داخل ہونے سے قبل ریذیڈنٹ کی اجاز سیاصل کی جائے؟ کہنے لگا کہ قانون تو نہیں مگر چونکہ یہاں کے لوگ جاہل ہیں اِس لئے حفاظت کی خاطر ضروری ہے کہ ریذیڈنٹ سے اجازت حاصل کی جائے۔میں نے کہا کہ یہاں کے لوگ مجھ سے بڑی محبت سے پیش آتے ہیں۔بہت سے لوگ بڑے شوق سے دینی تعلیم حاصل کو رہے ہیں مجھے ان سے کوئی خطرہ نہیں۔بعد میں ڈسٹرکٹ آفیسر نے وہاں کے امام اور نیٹو چیف کو آفس میں بلا کر میرے متعلق پوچھا کہ ادریس بیاں کیا کام کرتا ہے اور کہاں کہاں جاتا ہے ؟ امام اور چیف دونوں نے میری تعریف کی اور کہا کہ ادریس اچھا آدمی ہے یہاں مفت دینی تعلیم دیتا ہے۔ڈسٹرکٹ آفیسر نے جب دیکھا کہ اس طریق سے مبلغ کو رانا ؤ سے نکالنے کی کوئی صورت نہیں بنی تو جیسلٹن ریذیڈنٹ کو میرے متعلق تمام حالات سے اطلاع دی۔ریذیڈنٹ نے خود اور پولیس کے ذریعہ ڈاکٹر بدر الدین احمد صاحب پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ اور یس کو راناؤ کے علاقہ سے واپس بلا لو۔ڈاکٹر صاحب نے بھی حکومت کو جواب دیا کہ اور میں مبلغ ہے تبلیغ کی ہر شخص کو آزادی ہے