تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 177
122 انڈونیشیا میں اس جماعت کے بہت سے افراد پائے بجاتے ہیں۔علاوہ ازیں جماعت احمدیہ کے مشن اٹلی - ارجنٹائن۔لنڈن - واشنگٹی۔پیرس۔زیورچ میڈرڈ ہیمبرگ میں بھی پائے جاتے ہیں۔حافظ صاحب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہالینڈ جیسے ملک میں ان کا کام کوئی آسان نہیں ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ وہ پیغام جو ہم لے کر آئے ہیں محبت صلح و آشتی کا نام ہے۔کیونکہ اسلام کا مطلب ہی یہ ہے کہ خدا اور انسانوں کے ساتھ صلح۔اس لئے اہم کامیابی کی امید کرتے ہیں۔جماعت کی تعداد ہمارے ملک میں ابھی تک بہت ہی تھوڑی ہے لیکن یہاں ایک آؤ تحریک بھی ہے جس میں بہت سے انڈونیشین شامل ہیں۔اس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد روم صاحب ہائی کمشنر برائے انڈونیشیا کی رہائش گاہ واقع واستنار میں اپنے اجتماعات کرتے ہیں اور اسی جگہ انہوں نے عید کی نماز بھی ادا کی تھی۔ہیگ ، ایسٹر ڈم، او ترخت وغیرہ میں لوگوں نے بہت پچسپی کا اظہار کیا ہے اور بہت سے لوگ ان کے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں مگر ابھی تک ڈیڑھ درجن کے قریب لوگوں نے سبعیت کی ہے۔ہالینڈ سے ایک ماہانہ دو ورقہ پرچہ بھی نکالا جاتا ہے جو ممبران جماعت احمدیہ کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔جماعت احمدیہ کی مستورات ہیگ کی مسجد کے لئے اور مرد امریکہ کی مسجد کے لئے چندہ جمع کر رہے ہیں یہ (ترجمہ) حضرت مصلح موعود کی رات چندہ کی تحریک فرائی کہ اینٹ کی سیداحمدی عورتوں کے چنده ہالینڈ اور احمدی مستورات کا شاندار مالی جہاد سے تعمیر کی جائے۔احمدی خواتین نے اپنی گذشتہ مثالی روایات کے عین مطابق اس مالی تحریک کا ایسا والہانہ اور پیر جوش خیر مقدم کیا کہ اس پر حضرت مصلح موعود نے تقریروں اور خطبوں میں اپنی زبان مبارک سے متعد د بار اظہار خوشنودی کیا۔مثلاً ایک خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا :- الفضل ۳۰ ظهور / اگست است۔F1900