تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 162
۱۶۲ (۲) مسٹر پی سیجے ، ایف، کے المہدی عبد الرحمن بن کو لیے لیے سه جناب حافظ قدرت اللہ صاحب نے اپنے ایک مضمون میں مسٹر کو پلے کے حالات زندگی پر مفصل روشنی ڈالی تھی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :۔آپ کا پورا نام مسٹر پی۔ہے۔ایف کے اطہری عبدالرحمن ابن کو پلے ہے۔آپ جرمنی میں پیدا ہوئے۔والدہ آپ کی جرمن ہیں اور باپ ڈیا - اسلام کے ساتھ پی پی کچھ بچپن سے ہی پیدا ہو چکی تھی۔ء میں کچھ مینی سیلرزہ اس ملک میں آنکلے۔عربی یہ دلچسپی کی وجہ سے ان کے ساتھ میل ملاقات ہونے لگی اور آخر ان کے اثر سے متاثر ہو کر ان میں برلن میں مسلمان ہو گئے اس کے بعد فرانس میں بعض عربوں اور الجیرین سے وقتاً فوقتاً ملاقات کے مواقع میسر آتے رہے۔آپ کے نینی دوست علوی طریقہ کے پابند تھے چنانچہ آپ پر بھی وہی رنگ، غالب تھا اور آپ کے تعلقات الجی میں علوی میشن کے ساتھ مضبوط تر ہوتے گئے۔عرصہ قریباً ہے کہ سال کا ہوا مسٹر کو پے نے ایک خلا انہیں احمدیہ کے لکھا اور وہ خدا نحترم مولانا شمس صاحب کو لندن بھیج دیا گیا۔چنانچہ محترم موصوف نے پھر مسٹر کو پے سے خط و کتابت جاری دیکھی۔انہیں اسلامی لٹریچر بھجواتے رہے اور احمدیت کی تسلیم سے آگاہی دیتے رہے۔محترم مولانا نی صاحب کا ارادہ بھی تھا کہ وہ ایک دفعہ معو و یا اینڈ آکر مسٹر کو پلے سے کاقات کریں مگر اس کے لئے حالات سازگار نہ ہو سکے بحضور (مصلح موعود) ایدہ اللہ تبصرہ العزیز نے جب مجھے ہالینڈ جانے کا ارشاد فرمایا تو اس موقع پر مسٹر کو پے کی خدمات حاصل کی گئیں چنانچہ انہوں نے بہت ہی بے دردی اور اخلاص کا ثبوت دیا اور میرے لئے کمرہ رہائش کا انتظام بیگ میں کر دیا۔ابتدائی ایام میں مسٹر کو پلے بہت کثرت کے ساتھ ایمسٹرڈم سے مجھے ملنے کے لئے آتے رہے۔اسلامی امور کے متعلق تو انہیں ایک حد تک کافی معلومات تھیں اگر احمدیت کے متعلق بہت سے حقائق ان سے پوشیدہ تھے۔آہستہ آہستہ ان کے مشکوک کا ازالہ ہوتا رہا اور حقیقت کھلتی گئی۔اڑھائی ماہ کا حصہ ہوا انجیر بن علوی ہیڈ کوارٹر کی طرف سے مٹر کو پنے کو ایک ہدایت، موصول ہوئی اور ان سے خواہش کی گئی کہ وہ ہالینڈ میں اس کی طرف سے علوی طریقہ کا ایک مشن کھول کر تبلیغ کا کام شروع کر دیں۔مسٹر کو پلے ابھی اس معاملہ پر غور ہی کر رہے تھے کہ انہیں کیا جواب دیا جائے کہ دوسری طرف ہماری نوجوان محمدی نیا توں رضیہ نے ایک دن پوچھا کہ مسٹر کو پلے اب احمدیت میں داخل کیوں نہیں ہو جاتے ؟ میں نے اس سے کہا کہ وہ اپنے علومی دوستوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔اس پر انہیں جوش سا آیا اور کہا کہ انہیں اپنی ایمانی جرات سے کام لینا چاہئیے اور دوستوں کی پروا نہیں کرنی چاہئیے۔چنانچہ انہوں نے اخلاص بھرے دبیه ماشیہ اگلے صفحوه ییه