تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 124
۱۲۴ بیگم صاحبہ نے اپنے دست مبارک سے رکھا اور دعا فرمائی۔اس مقدس تقریب کے ایمان افروز کو الف احوال مجاہد اسلام سوئٹزرلینڈ چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کے قلم سے لکھے جاتے ہیں :۔دنیا میں بے شک تقدیر اور تدبیر دونوں الہی قانون جاری ہیں لیکن مجھے اپنی زندگی میں تقدیر اس طرح تدبیر پر حاوی نظر آئی ہے گویا تدبر کا وجود ہی نہیں۔سوئٹزرلینڈ میں مبلغ مقرر کئے جانے کا خیال میرے دماغ کے کسی گوشے میں بھی نہیں آسکتا تھا لیکن تقدیر یہاں پر لے آئی۔اور پھر وہم میں بھی یہ بات نہ آسکتی تھی کہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مبشرا ولاد میں سے کسی کے ہاتھوں مسجد زیور کا سنگ بنیا د رکھا جائے گا۔غیر متوقع طور پر حضرت سیدہ اللہ الحفیظ بیگم صاحبہ مظلتها العالی کے دست مبارک سے اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جاتا محض تقدیر الہی کا ایک کرشمہ ہے۔عاجز نے یہاں سخت نامساعد حالات میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے یہ کام شروع کیا اور جملہ مراحل یکے بعد دیگرے محض اس کے کرم سے سرانجام پاگئے حتی کہ مسجد کے پلاٹ پر کام شروع کرنے کا دن آگیا۔میں نے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر سے درخواست کی تھی کہ وہ خود سنگ بنیاد کے لئے تشریف لاویں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میرے لئے امسال یورپ آنا ممکن نہیں آپ خود ہی بنیاد رکھ لیں۔میں نے پھر اپنی اس شدید خواہش کا اظہار کیا کہ مسجد کی بنیاد ایسے ہاتھوں سے رکھی جائے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دوہرا تعلق ہو۔نہ صرف یہ کہ وہ سلسلہ کا خادم ہو بلکہ جسمانی طور پر بھی حضور کے برگ بار میں سے ہو ر سنگ بنیاد رکھنے کا وقت قریب آرہا تھا کوئی انتظام نہ ہونے کے باوجود قلب کو اطمینان تھا کہ اللہ تعالی خود اپنی جناب سے سامان پیدا کر دے گا۔اچانک ایک دن محترم امام صاحب مسجد لنڈن چوہدری رحمت خان صاحب کا مکتوب گرامی آیا جس میں حضرت سیدہ نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی تشریف آوری کا ذکر تھا۔یہ خبر اتنی غیر متوقع اور خوش کن تھی کہ اِس کے سچا ہونے پر یقین نہ آتا تھا۔میں نے یہ خط اہلیہ ام کو دیا انہوں نے بھی پڑھ کر تعجب کا اظہار کیا۔خاکسار نے حضرت بیگم صاحبہ کی خدمت میں بذریعہ تار یورپ تشریف آوری پر خوش آمدید عرض کیا اور مسجد زیورگ کا سنگ بنیاد رکھنے کی درخوات