تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 125
۱۲۵ کی آپ نے کمال شفقت سے اسے منظور فرمایا اور تحریر فرمایا کہ وہ اسے بڑی سعادت سمجھتی ہیں۔یکی نے سوئٹزر لینڈ کے تمام احمدی احباب سے جن میں سے اکثر ز یورک سے باہر رہتے ہیں رابطه پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اِس تقریب میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کریں۔آسٹریا کے احمدیوں کو بھی مدعو کیا گیا۔اخبارات اور نیوز اینبیوں سے بھی رابطہ قائم کیا۔پھر اپنی جماعت کے احباب کے علاوہ زیورک یا اس کے نواح میں مقیم مختلف ممالک کے مسلمانوں کو بھی اس تاریخی تقریب میں مدعو کیا۔اس موقعہ پر پولیس کے لئے جرمن زبان میں ایک تفصیلی بیان تیار کیا گیا۔اس دوران حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ اور محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے پیغامات بھی موصول ہو گئے، ان کا بھی جرمن ترجمہ تیار کر وایا گیا۔حضرت بیگم صاحبہ محمد وعه حسب پیر و گرام مورخہ ۳۴ را گست بروز جمعہ پونے بارہ بجے ڈنمارک سے محترمہ صاحبزادی فوزیہ بیگم صاحبہ کے ہمراہ تشریف لائیں۔ہوائی اڈہ پر صاحبزادہ مرزا مجید حمد صاحب معہ بیگم صاحبہ بھی موجود تھے جو ایک دن قبل ہمبرگ پہنچ گئے تھے۔ائر پورٹ پر پرتپاک خیر مقدم کیا گیا طے شدہ پروگرام کے مطابق اسی روز دو بجے ایک نیوز ایجنسی نے ایک خاتون کو ٹیپ ریکارڈر کے ساتھ حضرت بیگم صاحبہ کا انٹرویو ریکارڈ کرنے کے لئے بھیجوایا۔حضرت بیگم صاحبہ سے اس خاتون نے مختلف سوالات کئے اور حضرت بیگم صاحبہ کی زبان مبارک سے جواب ریکارڈ کرنے کے بعد عزیزہ امتہ المجید بنت چوہدری عبد اللطیف صاحب امام مسجد ہمبرگ نے اس کا جرمن ترجمہ کیا۔یہ ترجمہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔حضرت بیگم صاحبہ نے اپنے بیان کے آخر میں فرمایا کہ سوئیں لوگوں کے لئے میرا پیغام یہ ہے کہ وہ اسلام کا مطالعہ کریں اور ہمارے مبلغ مشتاق احمد صاحب باجوہ سے رابطہ پیدا کر کے لڑ پر حاصل کریں۔اس کی اولین سعادت نیوز ایجنسی کے مینیجر کو حاصل ہوئی اس نے فوراً فون کیا کہ میں لٹریچر دیکھنا چاہتا ہوں مجھے بھیجوایا جائے۔چنانچہ بذریعہ ڈاک اسے لٹریچر بھجوایا گیا۔حضرت بیگم صاحبہ کا یہ انٹرویو زیورک کے ایک اخبار میں من وعن شائع ہوا۔۲۵ اگست کو ساڑھے دل بے قصبہ مسجد کی بنیاد کا وقت مقرر تھا صبح اُٹھے تو مطلع ابر آلود تھا۔ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔خاکسار صبح ہی وہاں پہنچ گیا کیونکہ بعض دوست جو