تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 87
اشاعت اسلام کی مہم کو چلانے کے لئے چونکہ لسانی جہاد کے ساتھ قلمی رسالہ الاسلام کا اجراء جہاد بھی ضروری تھا اس لئے شیخ صاحب موصوف نے ایک مخلص اور اس کی مقبولیت احمدی محمد راشد صاحب مصری کے مالی تعاون سے ایک سائیکلو ٹائل بقیہ عائشہ صفحہ گزشتہ :- فرم کی نمائندگی کے سلسلہ میں جاتے رہے اور اس طرح اسلام میں دلچسپی پیدا ہوگئی مجھے باقی ممالک کا تو علم نہیں لیکن یورپ کے ممالک میں خاصی تعداد ان احمدیوں کی ہے جو مختلف ملکوں میں گھومتے رہے ہیں۔یہ بھی ایک طیوری صفت ہے۔اللہ کی تقدیر اس طرح ان میں وسعت نظر پیدا کر دیتی ہے اور ان کو ایک نئے ماحول سے قدرے مانوس کر دیتی ہے اور ان کے لئے صداقت کی شناخت میں سہولت پیدا کر دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ جو خدمت مرحوم سے لینا چاہتا تھا۔اس کے لئے مزید تربیت کی ضرورت تھی۔ان کی شادی جرمن میں ایسے باپ کی بیٹی سے ہوئی جو اخبار نویس تھا اور وہ خود اخبار ایڈٹ کرنے لگے جنگ کے بعد وہ سوئٹزرلینڈ آگئے اور ایک فارم خرید لیا۔زمینی بارہ اور صحافت ان کا شغل ہوگیا ی شار میں (جبکہ برادرم شیخ ناصر احمد صاحب یہاں مبلغ انچارج تھے) کا واقعہ ہے کہ ان کی ہمشیرہ نے جو معلمہ ہیں اپنے ایک مضمون " اسلام میں عورت کی حیثیت کی تیاری کے سلسلہ میں ان سے قرآن کریم کے حوالہ جات میں مدد چاہتی۔ان کے پاس اس وقت قرآن کریم کا کوئی نسخہ موجود نہ تھا، انہیں مشن کا پتہ کسی اخبار سے مل گیا اور انہوں نے نشن سے قرآن کریمہ طلب کیا۔اس طرح مشن سے رابطہ پیدا ہوا اور کار دسمبر 9ار کو انہوں نے بیعت کر لی ، الحمدلله برادرم فولمانہ ہماری ہر مجلس کی زینت ہوتے۔میرے بار بار کہنے پر بیوی بچوں کو بھی ہمراہ لانا شروع کر دیا۔ایک دفعہ ہم نے گھر میں ان کے بیوی بچوں کو مدعو کیا۔برادرم فولمار مرحوم نے مجھے کہا کہ اس سفر نے سینکڑوں صفحات کے مطالعہ سے زیادہ کام دیا۔ایک موقعہ پر عربوں کی حمایت میں اجلاس تھا مقصود یہ تھا کہ حالات بتائے جائیں اور چندہ کی اپیل کی جائے۔برادرم کمال فولار کو بلایا مگرنہ آئے۔بعد میں مجھے بتایا کہ انہیں عربوں پر ظلم وستم کا اس قدر رہتی ہے کہ انہیں ڈر تھا کہ وہ اپنے پر ضبط نہ رکھ سکیں گے اس لئے نہ آئے۔میں جب سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تشریف لائے تو انہیں جماعت کی طرف سے حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی حضور جب اس موقعہ پر ان سے ملے اور معلوم ہوا کہ وہ کینسر سے بیمار ہیں تو فرمایا میں آپ کے لئے ایک بوٹی بھیج دوں گا و استعمال کیجئے۔چنانچہ حضور نے بوٹی بھجوائی برادرم کمال مرحوم نے جذبات تشکر کے ساتھ اس کا استعمال شروع کیا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت فائدہ ہوا۔معلوم نہیں اللہ تعالٰی نے بوٹی میں کچھ تاثیر رکھی ہے یا کوٹی بھیجوانے والے کی دعا کی تاثیر تھی صحت پر بڑا اچھا اثر پڑا۔برادرم مرحوم نے چاہا کہ وہ ہدایت کے مطابق استعمال کرتے ہی رہیں۔محترم صاجزادہ مرزا مبارک احمد صاحب بعد میں بھجواتے رہے۔اور آخری بار تو انہوں نے اٹھی دو سو خو راکین بھجوائیں وہ ختم نہ کر پائے تھے کہ مرحوم ان کی ضرورت سے بے نیاز ہو گئے۔ربقیہ حاشیہ انگلے صفحہ پر