تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 80 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 80

A۔کوشش کے تلاش نہیں کی جاسکتی تھی۔بابومحمد یونس صاحب آپ بابو نزیہ احمد صاحب کے ماموں تھے جو از تبوک استیر کو غالباً لی ڈی ہارڈنگ ہسپتال میں دوائی لینے کی غرض سے گئے۔مگر آہ ! پھر واپس نہ آسکے۔چودھری غلام محمد صاحب سب پوسٹ ماسٹر - آپ فسادات کے دوران نینتا رام مند لعل کے کی اوٹ میں ایک سکھ انسپکٹر کے ایمار سے شہید کر دیئے گئے۔- محمد حسین صاحب واج میں۔آپ اور تبوک ستمبر دہلی سے مع اپنی اہلیہ کے پرانا قلعہ کیمپ میں پہنچے۔پاکستان جانے کے لئے ایک اسپیشل ٹرین پر سفر کر رہے تھے کہ بیاس اسٹیشن کے قریب گاڑی پر حملہ ہوا۔اور اس حملہ میں مرحوم اور ان کی رفیقہ حیات دونوں شہید کر دیئے گئے لیے اء کے قریب سڑو ہر تحصیل گناہ شنکر ضلع ہوشیار پور میں اخمات سردہ کے احمدی شہدا ری آغاز ہوا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی زندگی میں ہی یہاں ایک مخلص اور جانثار جماعت قائم ہو گئی تھی۔اس گاؤں میں ایک ہزار کے قریب مرد وزن اور بچے احمدی آباد تھے۔۳۰ ظہور اگست ہش کو دبوقت و بجے صبح) ۲۱ ہزار مسلح سکھوں نے گاؤں پردھاوا بول دیا۔اس وقت سروعہ میں صرف پانچ بندوقیں تھیں مگر در سے سات تھے یہاں سے سکھ بآسانی داخل ہو سکتے تھے۔احمدی و غیر احمدی مسلمانوں نے ان سات دروں پر اپنی حفاظتی چوکیاں قائم کر لیں۔اور تہیہ کرلیا کہ مر جائیں گے گر سکمتوں کو گاؤں کے اندر داخل نہیں ہونے دیں گے سکھوں نے دھمکیاں دیں کہ سروعہ کو لڑائی کے بغیر بنالی کردو ورنہ قتل وغارت کے علاوہ عورتوں کی بھی بے عزتی کی بجائے گی مگر مسلمانوں نے سکھوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے صاف انکار کر دیا جس پر دن کے دو بجے گاؤں کے باہر دست بدست لڑائی شروع ہو گئی۔مشرقی درے پر پہندو گوجروں نے حملہ کیا تھا جب ایک کو ٹھٹے سے ان پر گولیاں برسنا شروع ہوئیں تو ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ بھاگ نکلے۔اس موقعہ پر صوبیدار عبد المجید خان احمدی پیشنر اور پچودھری عبد الحکیم خال احمدی نے شجاعت اور بہادری کے شاندار کار ہائے نمایاں دکھائے۔وہ اپنا درہ چھوڑ کر دوسرے غیر محفوظ دروں کی طرف بھی بجا کر فائر کرتے اور پھر اپنا درہ بھی سنبھال لیتے تھے۔شام کے پانچ بجے ہوں گے کہ اس وقت اگر چہ صرف چودہ گولیاں باقی رہ گئی له الفضل" ۲۵ تبلیغ | فرودی ده مش صفحه ۰۴