تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 79
49 اگرچہ مشرقی پنجاب کے دوسرے مسلمانوں کی طرح احمدیوں کو بھی اس قیامت صغریٰ سے دو بچار ہونا پڑا اور واہگہ سے لے کر دہلی تک کا علاقہ ان کے لئے میدان کرب و بلا بن گیا مگر خدا تعالے کی غیر معمولی نصرت اور حفاظت کا ہاتھ ہر جگہ ان کے لئے کار فرما رہا چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ چند منشیات کے سوا جہاں خدا کے فضل و کرم سے احمدی خواتین کا دامن عصمت و حرمت ننگ انسانیت ظاملو اور بدسگالوں کی چیرہ دستیوں سے بالکل محفوظ رہا وہاں جماعت احمدیہ کا جانی نقصا بھی نسبتا بہت ہی کم ہوا۔اکثر و بیشتر جماعتیں پیدل یا فوجی ٹرکوں یا گاڑیوں میں بحفاظت پاکستان نہیں بعض جماعتوں ( مثلاً کپور تھلہ وغیرہ) کی نسبت افواہ پھیل گئی کہ ان کے اکثر افراد مار دیئے گئے ہیں مگر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ صرف ایک احمدی شہید ہوا ہے اور قادیان اس کے مضافات ، سٹروعہ اور دلی وغیرہ کے سوا) چند ہی ایسی جماعتیں ہوں گی جس کے دو تین بعد پھار سے زیادہ احمدیوں کو سانحہ شہادت پیش آیا ہو۔ولی کے احمدی شہد اور قادیان اور اسکے ناول کے شہداء کا ذکر آگے آرہا ہے۔یہاں ہم دہلی اور سٹروعہ کے شہیدوں کا ذکر کرتے ہیں۔دہلی میں خانہ جنگی کے دوران مندرجہ ذیل چار نہایت مخلص احمدیوں کو شہادت نصیب ہوئی :- بابو نذیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ دہلی۔آپ ، ارتبوک استمبر کو کر نیو ہٹنے کے دوران صاحبزادہ امنیر احمد صاحب ( ابن حضرت مرزا بشیر احمد صبا) کے ہاں دریا گنج تشریف لے بھا رہے تھے کہ راستہ چند مہندو نوجوانوں کے ہاتھوں شہید کر دیئے گئے اور آپ کی نعش ایسی جگہ پہنچا دی یہاں سے باوجود بقیه حاشیه صفحه گذشته : قریب نما مہ : تقریب نئے گنڈا سنگھ والا پہنچے۔انہی دنوں تین ہزار مسلمانوں کا ایک اور قافلہ ضلع فیروز پور کے جنوب سے ابو ہر جا رہا تھا۔ڈپٹی کمشنر منٹگمری کو اطلاع پہنچی کہ اس قافلے پر حملہ کیا گیا ہے۔اس نے پنجابی رجمینٹ کے ایک افسر کو دیکھ بھائی کے لئے روانہ کیا جس نے واپس آکر بتایا کہ اس نے ابوہر کے ارد گرد کی سڑکیں نعشوں سے پٹی ہوئی دیکھی ہیں۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جوڈوگر نے مسلمانوں کے پہریدار مقرہ کئے گئے تھے انہی کی امداد سے سارے کا سارا قافلہ ذبح کر ڈالا گیا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس افسر کو کسی عورت کی نعش نظر نہیں آئی جس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ عورتیں سب کی سب اُٹھا لی گئیں۔گاڑیوں کا سفر عام طور پر سیتا محفوظ کھا جاتا ہے مگر ہر مش کے آتشیں ماحول میں پیلے قافلوں کی طرح گاڑیوں میں ۶۱۹۴۷ بھی نہایت سفا کی اور درندگی سے قتل عام کیا گیا۔کتاب " سکھوں کا منصوبہ" کے آخر میں ہر اگست ۹۴ار سے لے کرہ اکتوبر ۱۹۴۷ء تک کی ایسی واردات کا مفصل نقشہ دیا گیا ہے۔