تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 81 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 81

Al تھیں مگر ابھی تک سکھوں کو گاؤں کے اندر داخل نہیں ہونے دیا تھا۔اسی اثناء میں اللہ تعالیٰ نے اچانک اس طرح مدد فرمائی کہ تین فوجی مسلمان اپنا ایک فوجی ٹرک لے کر وہاں آنکلے اور انہوں نے سکھوں کو حملہ آور دیکھتے ہی گولیاں چلانی شروع کر دیں میں سے سکھوں میں سخت بھا گڑ مچ گئی اور ۲۱ ہزار سکھ بھاگ نکلا اور آگ لگانے کے لئے تیل کے پیسے بو ہمراہ لائے تھے وہ سٹروعہ والوں کے ہاتھ لگے۔اس طرح عین آخری وقت پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تائید و نصرت فرما کہ اہل سروعہ کی خواتین کی عزت و عصمت کو محفوظ فرما دیا۔بعض مستور است نے اس بنگ میں لڑنے والے مردوں کو پانی پلانے کا کام کیا۔مشروعہ کے ، مسلمان بن میں چوہدری احمد خاں صاحب ولد بڑھے تقال صاحب اللہ بخش صاحب تیلی ، احمد علی خان صائب وٹرنری انسپکٹڈ نیشنز جیسے مخلص احمدی بھی تھے داد شجاعت دیتے ہوئے شہید ہوئے۔دوسری طرف سکھوں کے 41 مرد کام آئے مسلمانان مروجہ اس معرکہ کے دوسرے روز اسی فوجی ٹرک کی امداد سے گڑہ شنکر میں جا پناہ گزیں ہوئے جہاں سے بالاآخر پاکستان میں ہجرت کر آئے۔اگر چہ ہندوؤں اور سکھوں کی خوفناک سازشوں اور جارحانہ پرچم مشرقی پنجاب میں اسلامی پر تیم کارروائیوںکو دیکھ کر یہ تصور میں بھی نہیں آسکتا تھاکہ کوئی لہرانے کے لئے میا خدا نہ عام ایک بھی کلمہ گو اور اسلام کا نام لیوا امشرقی پنجاب کے خونیں غدر میں باقی رہ سکتا ہے مگر حضرت سیدنا المصلح الموعود کی غیرت ایک لمحہ کے لئے گوارا نہیں کرتی تھی کہ اتنا بڑا علاقہ یہاں مدتوں پوری شان و شوکت سے اسلامی پرچم لہراتا رہا یکسر خالی ہو جائے اسی لئے حضور کا منشا مبارک یہ تھا کہ اس علاقہ کے مسلمان خصوصاً احمدی اپنے بال بچوں کو پاکستان میں چھوڑ کو اپنے اپنے مقامات کی طرف واپس جانے کی کوشش کریں اور اگر یہ مکن نہ ہو تو وہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ ایسی جگہوں پر آباد ہوں جہاں اُن کے لئے اپنی بستیوں میں پہنچنا آسان ہو چنانچہ حضور نے تبوک استمبر کے خطبہ جمعہ میں مشرقی پنجاب سے آنے والے احمدیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد هو افضل " ۲۵ / ۲ خاء / اکتوبر را به مش صفحه ۳ +19