تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 66 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 66

۶۶ کے مطابق مقررہ حملہ چیک کر کے سواریاں بٹھاتا تھا۔سامان کا اصول سب پر یکساں چسپاں ہوتا تھا اور اس میں ضروریات زندگی کی چیزوں کو مقدم رکھا گیا تھا۔مثلاً بستر اور پہننے کے کپڑے یا بعض صورتوں میں اقل تعداد میں کھانے کے برتن وغیرہ اور پارٹی کی تعداد کے مطابق سامان میں کمی بیشی کا اصول بھی مقرر تھا۔البتہ دو چیزوں کے متعلق استثناء رکھی تھی۔ایک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تبرکات اور دوسرے نایاب تبلیغی یا علمی کتابیں اور بعد میں اس میں ایک تیسری چیز کا بھی اضافہ کر دیا گیا یعنی ایسی اشیاء ہو کسی شخص کی روزی کا ذریعہ ہوں مثلاً درزی کے لئے سینے کی مشین یا بڑھئی کے لئے اوزار وغیرہ۔یہ اصول امیر و غریب سب پر یکساں چسپاں ہوتا تھا۔گو ظاہر ہے کہ نسبتی لحاظ سے اس اصول سے غربا کو ہی زیادہ ندہ پہنچتا تھا بلکہ غرباء کے متعلق تو میری یہانتک ہدایت تھی کہ صرف صدر صاحبان کی سفارش پر یہی معاملہ نہ چھوڑا بھائے بلکہ میرے دفتر کے مرکزی کارکن خود جستجو کر کے بتائی اور بیوگان اور ایسے مساکین کو تلاش کر کے میرے نوٹس میں لائیں جن کا حق ان کی غربت اور بے بسی کے سوا اور کوئی نہ ہو چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میری اس ہدایت کی وجہ سے مجھے ملک غلام فرید صاحب نے رات کے دو بجے دار الفضل سے فون کیا کہ میں نے محلہ دار البرکات میں ایک ایسی بیکس اور بے بس عورت تلاش کی ہے جس کے ٹکٹ کے لئے ابھی تک کسی نے سفارش نہیں کی میں نے فوراً ہدایت دی کہ اسے اس کے ضروری سامان کے ساتھ دوسرے دن کے کنوائے میں بھیجوا دیا جائے۔الغرض جب تک میں قادیان میں رہا ئیں نے بلا امتیاز غریب و امیر سب کے واسطے ایک جیسا اصول رکھا اور گھوما صدر صاحبان کی تصدیق پر فیصلہ ہوتا تھا اور سامان کے متعلق بھی سب کے لئے ایک جیسا اصول تھا گو یہ علیحدہ بات ہے کہ بعض بے اصول لوگ چوری یا سینہ زوری کے ذریعہ زیادہ فائدہ اٹھا لیتے ہوں مگر یہ ناگوار رخنے جن کی تعداد بہر حال کم ہوتی ہے، ہر انتظام میں ہو جاتے ہیں اور ہنگامی حالات میں تو لازمی ہوتے ہیں مگر ان زیر پستی کی استثناؤں کی وجہ سے سارے نظام پر اعتراض کرنا درست نہیں۔حقیقت یہی ہے کہ پیش آمدہ حالات کے ماتحت جو کچھ بھی کیا گیا دہ حالات اور موقعہ کی نزاکت