تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 65 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 65

۶۵ کو نکالتا ہے) اور اُدھر تم جس طرح بھی ہو ، ہر ٹوک میں زیادہ سے زیادہ عورتیں اور بچتے لدوا کہ انہیں بعد سے بعد باہر بھجوا دو۔اور جب عورتیں محفوظ ہو جائیں تو پھر باقی معاملہ جو ہماری وقت سے باہر ہے خدا پر چھوڑ دو۔وَالْبَيْتِ رَبُّ يَمْنَعُهُ اب ٹرکوں کا حال میں تھا کہ قادیان میں دو قسم کے ٹرک پہنچتے تھے۔ایک وہ پرائیویٹ ٹرک بو لبعض احمدی فوجی افسر اپنے اہل و عیال اور اپنے ذاتی سامان کر لے جانے کے لئے اپنے فوجی سق کی بناء پر حاصل کر کے قادیان کے جاتے تھے اور دوسرے وہ جماعتی ٹرک جو جو کتی کوشش سے جماعتی انتظام کے تحت حکومت کے حکم سے قادیان بھجوائے جاتے تھے۔یہاں تک پہلی قسم کے لڑکوں کا سوال ہے۔ظاہر ہے کہ یہ پرائیویٹ چیز تھی اور مجھے یا کسی اور کو دخل دینے کا حق نہیں تھا۔ان کے متعلق صدر صاحبان محلہ جات، قادیان کو میری ہدایت صرف اس قدر تھی کہ اس بات کی نگرانی رکھیں کہ ان پرائیویٹ ٹرکوں کے اندر بیٹھ کر کوئی احمدی مرد بلا اجازت باہر نہ چلا جائے۔نیز یہ کہ پرائیویٹ ٹرک والے فوجی افسر سے پوچھ لیا کریں کہ کیا اس ٹرک میں کسی زائد سواری کی گنجائش ہے، اور اگر گنجائش ہوا کرے تو مجھے بتا دیا کریں تا میں ایسے ڑکوں میں زائد احمدی عورتیں بھیجو اسکوں۔اور اس طرح ہماری سکیم کی جلد تر تکمیل میں مدد ملے۔چنانچہ ایسا ہوتا رہا اور جہانتک ممکن تھا میں حکمت عملی اور سمجھوتہ کے طریق پر پرائیویٹ ٹرکوں میں بھی زائد عورتیں بھجواتا رہا مگر ظاہر ہے کہ یہ ٹرک میرے کنٹرول میں نہیں تھے اور جہانتک سامان کا تعلق ہے ان ڑیوں کے مالک بقتنا سامان چاہتے تھے اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور میں اس میں دخل نہیں دے سکتا تھا۔اور میں جانتا ہوں کہ بعض ایسے پرائیویٹ لڑکوں والوں نے اپنا سارے کا سارا سامان با ہر نکال لیا۔مگر یہ ان کا قانونی حق تھا جس میں میں دخل نہ دے سکتا تھا۔البتہ دو ستر ڑک جو جماعتی انتظام کے ماتحت بہاتے تھے۔وہ بیشک کلیستہ ہمارے انتظام میں تھے رسوائے اس دخل اندازی کے جو ملٹری کی طرف سے ہوتی رہتی تھی اور دن بدن بڑھتی بھائی تھی، اور میں نے ایسے جماعتی لڑکوں کے لئے ایک مستعد حملہ اور کچھ اصولی ہدایتیں مقرر کر رکھی تھیں اور ہر یا ہر بھانے والی پارٹی کو باقاعدہ ٹکٹ ملتا تھا۔جس میں باہر جانے والی عورتوں اور بچوں کی تعداد اور سامان کی مقدار درج ہوتی تھی میں