تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 67 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 67

کو دیکھتے ہوئے بالکل درست بلکہ ضروری تھا اور یہ سب کچھ نیک نیتی کے ساتھ اپنے آپ کو دن رات کی انتہائی کوفت میں مبتلا کر کے خالصہ وجیہ اللہ کیا گیا۔مجھے یاد ہے کہ جب لاہور سے کنوائے پہنچتا تھا تو اس کی تیاری کے لئے میں اور میرا حملہ کیسا اوقات رات کے تین تین بجے تک مسلسل کام میں لگے رہتے تھے اور بعض راتیں تو ہم ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں سوئے گر یہ ہمارا کسی پر احسان نہیں ہے بلکہ بعدا کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ان خطرہ کے ایام میں خدمت کا موقعہ دیا۔ان ایام میں بعض دوست میرے پاس آتے تھے کہ ہمیں زیادہ سامان بھیجوانے کی اجازت دی جائے۔میں انہیں سمجھاتا تھا کہ دیکھو اس وقت حال یہ ہے کہ خطرہ بالکل قریب آگیا ہے اور ٹرکوں کی تعداد تھوڑی ہے۔اب چھا ہو تو احمدی عورتوں اور بچوں کی جان بچالو اور چاہو تو اپنا سامان محفوظ کر لو۔اکثر دوست میرے اس اشارہ کو سمجھ جاتے تھے مگر بعض کوتاہ بین لوگ دل برداشتہ بھی نظر آتے تھے۔لیکن میں مجبور تھا کہ بہر حال مومنوں کی جانوں اور خصو صا عید توں کی جانوں کو (جن کی بھانوں کے ساتھ ان کے ناموس کا سوال بھی وابستہ تھا) سامان پر مقدم کروں۔آخر ہر ٹرک کی گنجائش اور بوجھ اُٹھانے کی طاقت محدود ہوتی ہے۔اگر ہم ایک ٹرک پر سامان زیادہ لاد دیں گے تو لازماً سواریاں کم بیٹھ سکینگی اور اگر سامان کم ہوگا تو لاز ما سواریوں کے لئے زیادہ گنجائش نکل آئے گی۔ہماری اس تدبیر کا نتیجے عملی صورت میں بھی ظاہر ہے کہ مشرقی پنجاب کی تمام دوسری جگہوں کی نسبت قادیان میں بھائی نقصان نسبتی طور پر بہت کم ہوا ہے اور اغوا کے کیس تو خدا کے فضل سے بہت ہی کم ہوئے ہیں بلکہ جہاں تک میر اعلم ہے قادیان کے احمدی مہاجرین میں سے کوئی ایک عورت بھی اغوا شدہ نہیں ہے جو ظاہری لحاظ سے (کیونکہ اصل حفاظت تو خدا کی ہے، اسی تدبیر کا نتیجہ تھا کہ پہلے کہ که اکثر عورتوں کو خطرہ سے پہلے نکال لیا گیا اور جو تعداد حملہ کے وقت قادیان میں موجود تھی وہ نہ اتنی محدود تھی کہ خطرہ پیدا ہوتے ہی ہمارے آدمی انہیں فوراً سمیٹ کر محفوظ جگہوں میں لے آئے ورنہ اگر زیادہ تعداد ہوتی تو انہیں اتنے قلیل نوٹس پر سمیٹنا ناممکن ہوتا اور ان کا اتنی محمد ود جگہ میں سمانا بھی ناممکن تھا سنه ل " الفضل ار نبوت / نومبر له مش صفحه ۳ - ۴ +