تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 62 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 62

۶۲ عورتیں اور سب احمدی بچے دشمنوں کے تمام معاندانہ اور اخلاق سوز منصوبوں کو مخاک میں ملاتے ہوئے ہر طرح صحیح و سالم پاکستان میں پہنچے بلکہ قادیان کی بقیہ احمدی آبادی بھی پوری حفاظت کے ساتھ سرزمین پاکستان میں منتقل ہوئی۔انخلاء آبادی کا یہ عظیم معرکہ سر کرنے کے لئے کتنی زبر دست اور فقید المثال جد و جہد سے کام لینا پڑا۔اس کا نقشہ حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سے بڑھ کر بھلا کون کھینچی سکے گا ؟ آپ تحریر فرماتے ہیں :۔نے اس سلسلہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب امیر مقامی قادیان کا وہ سرکلہ درج کیا جانا ضروری ہے جو آپ نے اس ظہور اگست پر مہش کو صدر صاحبان قادیان کے نام تحریر فرمایا۔اور جس کے بعد قادیان کی آبادی کا باقاعدہ ان پر شروع ہوا۔آپ نے تحریر فرمایا :- " بخدمت صدر صاحبان ! السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبر کات حضرت صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ موجودہ خطرے کے ایام میں احمدی عورتیں اور چھوٹی عمر کے بچے قادیان سے باہر پاکستان کے علاقہ میں جانا چاہیں انہیں اس کی اجازت ہے بشرطیکہ اہور میں ان کی رہائش کا انتظام ہو سکے یا لاہور سے آگے جانے کا انتظام موجود ہو۔نیز یہ بھی ضروری ہے کہ قادیان سے باہر پاکستان کے علاقہ تک پہنچنے کے لئے مسلم ملٹری گارد کا انتظام موجود ہو۔مگر قادیان کا کوئی احمدی مرد سیکل بغیر اجازت باہر نہیں جا سکتا۔جس شخص کو کوئی مجبوری پیش ہو وہ اپنی مجبوری بیان کر کے اجازت حاصل کرے۔یہ بات بھی قابل وضاحت ہے کہ سلسلہ کی طرف سے مسلم کنوائے کا انتظام کیا جا رہا ہے جو کبھی کبھی قادیان آیا کرے گا اور اس میں حسب گنجائش مستورات اور بچوں اور اجازت والے مردوں کو موقع دیا جائے گا۔مگر یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ چونکہ گنجائش محدود ہوتی ہے اس لئے باری باری ہی موقع مل سکتا ہے جو غیر احمدی اصحاب باہر جانا چاہیں وہ بھی اس انتظام میں شامل ہو سکتے ہیں۔اگر گورنمنٹ کا ا نو اسٹے آئے تو وہ بلا کرایہ لے جائے گا لیکن اگر اپنے کانوائے کا استعمال کیا جائے تو اس کے لئے مناسب کرایہ لگے گا مگر غرباء کو سہولت دی جائے گی۔