تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 63
۶۳ ”ہماری آنکھیں دیکھ رہی تھیں کہ قادیان اور اس کے ماحول میں فتنہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔اور ضلع گورداسپور کے ایک ایک مسلمان گاؤں کو خالی یا تباہ کر کے قادیان کے ارد گرد خطرہ کا دائرہ روز بجو زنگ کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف قریباً پچاس ہزار بیرونی پناہ گزینوں نے قادیان میں جمع ہو کو ہماری مشکلات میں اور بھی اضافہ کر دیا تھا اور ہم دیکھتے تھے کہ مفسده پردازوں کی سکیم صرف قتل و غارت یا لوٹ مار یا مسلمان آبادی سے ضلع کو خالی کرانے تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں مسلمان عورتوں کے ننگ و ناموس کو بہ باد کرنا بھی شامل ہے چنانچہ میری موجودگی میں ہی ماحول قادیان کی اغوا شدہ عورتوں کی تعداد سات سو تک پہنچ چکی تھی۔بہت سی معصوم عورتوں کی عصمت دری کے نظارے گویا ہماری آنکھوں کے سامنے تھے) اور اس لئے ہم نے دوستوں کے مشورہ اور حضرت صاحب کی اصولی ہدایت کے ماتحت یہ فیصلہ کیا تھا کہ جہانتک ممکن ہو عورتوں اور بچوں کو جلد از جلد قادیان سے باہر بھجوادیا جائے بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ۔صدر صاحبان اپنے اپنے محلہ میں یہ بھی بتا دیں کہ ایسے بچوں عورتوں مردوں کی فہرست شیخ عبدالحمید صاحب عاجز بی۔اے (حال ناظر بیت المال قادیان۔ناقل ) کی نگرانی میں تیار ہوتی ہے۔پس تمام درخواستیں ان کے پاس جانی چاہئیں جو بعد منظوری نظارت باری باری لوگوں کو موقعہ دیں گے۔صدر صاحبان کو یہ بھی چاہیے کہ اس کام میں گھبراہٹ کا رنگ پیدا نہ ہونے دیں بلکہ وقار اور انتظام کے ماتحت سمارا کام سرانجام پائے " حاشیہ متعلقہ صفحہ ہذا :- حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے اس سکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مندرجہ ذیل حضرات پرمشتمل ایک مرکزی کمیٹی مقرب فرما دی تھی۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب - مولانا جلال الدین صاحب شمس مولوی ابو العطاء صاحب - مرزا عبدالحق صاحب - یہ کمیٹی دار تبجوک استمبر کو قائم ہوئی اور اسی روز اس کا مشورہ سیدنا حضرت امیر المومنین کے حضور بھیجوا دیا گیا