تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page vi
لیکن بچہ کوئی نہ تھا۔ایک بچہ ہوا تھا جو چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو گیا۔اُس وقت میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ عزم کیا تھا اور خدا تعالیٰ کے سامنے قسم کھائی تھی کہ اگر جماعت اس انتہائی کی وجہ سے فتنہ میں پڑھائے اور ساری ہی جماعت مرتد ہو جائے تب بھی میں اس صداقت کو نہیں چھوڑوں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لائے، اور اُس وقت تک تبلیغ جاری رکھوں گا جب تک وہ صدر رہتے دنیا میں قائم نہیں ہو جاتی۔شاید اللہ تعالیٰ مجھ سے اب ایک اور عہد لینا چاہتا تھا۔وہ وقت میری جوانی کا تھا اور یہ وقت میرے بڑھا پہلے کا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے کام کرنے کے لئے جوانی اور بڑھا پے میں کوئی فرق نہیں ہوتا، جس عمر میں بھی انسان اللہ تعالیٰ کے کام کے لئے کھڑا ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو برکت مل جائے اسی عمر میں وہ کامیابی اور کامرانی حاصل کر سکتا ہے۔لاہو رہی تھا جس میں میں نے وہ عہد کیا تھا اور یہاں پاس ہی کیلیا نوالی سڑک پر وہ جگہ ہے۔شاید یہاں سے ایک لکیر کھینچی جائے تو وہ جگہ اسی کے محاذ میں واقع ہو گی۔بہر حال اسی لاہور اور ویسے ہی تاریک حالات میں میں اللہ تعالیٰ سے توفیق چاہتے ہوئے یہ اقرار کرتا ہوں کہ خواہ جماعت کو کوئی بھی دھکا لگے ہیں اس کے فضل اور اس کے انسان سے کسی اپنے صدمہ یا اپنے دکھ کو اس کام میں حائل نہیں ہونے دونگا بفضلہ تعالی و توفیقہ و تبصرہ) بی خدا تعالیٰ نے اسلام اور احمدیت کے قائم کرنے کا میرے سپرد کیا ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے اس عہد کے پورا کرنے کی توفیق دے اور اللہ تعالے اپنے فضل و کرم سے میری تائید فرمائے۔یا وجود اس کے کہ میں اب عمر کے لحاظ سے ساٹھ سال کے قریب ہوں اور ابتلاؤں اور مشکلات نے میری ہڈیوں کو کھوکھلا کر دیا ہے پھر بھی میرے حتی وقیوم خدا سے بعید را نہیں۔امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل و کرم سے میرے مرنے سے پہلے مجھے اسلام کی فتح کا دن دکھا ر ہے ہی۔یہ وہ عہد ہے جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ابتدائے ہجرت میں کیا۔اور پھر اس عہد کو میں طرح نہا ہا یہ جلد اور آئندہ جلادیں اس کی تفصیل ہیں۔جماعت کے نوجوانوں کو خاص طور پر اس جلد کو اور انگلی جلدوں کو زیر مطالعہ لانا چاہیے تاکہ ان کے اندر احمدیت کی تبلیغ کا وہی جوش پیدا ہو اور قائم رہے جس کی حضرت مصلح موعود خواہش رکھتے تھے۔وبالله التوفيق ؟ والسلام لی ظفر اللہ خان پیاده خاکسار