تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page v of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page v

1 بي الله الرحمن الرحيم وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيمِ محمده ونصلى عَلَى رَسُولِيه الكرني تاریخ احمدیت کی گیارھویں جلد ارقه فرمول ها مکرتر و میتر و چوهدری محمد ظفر اللہ خانصاحب) امسال ادارۃ المصنفین کی طرف سے تاریخ احمدیت کی گیارھویں جلد شائع ہو رہی ہے۔یہ جلد جماعتِ احمدیہ کے پاکستانی دور سے شروع ہوتی ہے جس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کن حالات میں احمدیت کا قافلہ اپنے مرکز سے ہجرت کر کے پاکستان میں داخل ہوا اور کس طرح حضرت مصلح موجود خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اکھڑے ہوئے باغ کے درختوں کو اس طور پر پھر لگا دیا کہ وہ سب درخت اپنا پھل دینے لگ گئے اور بہار کا سماں پیدا ہو گیا جیسا کہ ہم میں سے ہر ایک مشاہدہ کر رہا ہے۔حضرت مصلح موعود ہجرت کے بعد جونی لاہور وارد ہوئے حضور نے جماعت کی تنظیم کو قائم کرنے کے لئے صدر انجمہ احمدیہ پاکستان اور کرنا ہے امین احمدیہ پاکستان کی بنیا د قائم کی اور اس طرح سے سامنے ادارت قائم ہو کر اپنے اپنے طور پر کام کرنے لگ گئے اور تباعت کی تنظیم بحال ہو گئی۔قادیان سے احمدی آبادی کا انخلاء اور پھر پاکستان میں وارد ہونے کے بعد ان کے ٹھہرانے اور ان کی آبادکاری کا عظیم کام تصور کی توجیہ اور الفیل سے ایسے طور پر ہوا کہ چین تکالیف کا دوسر سے لوگوں کو سامنا کرنا پڑا اُن سے بہت حد تک جامعت محفوظ رہیں۔اور پھر حضور کی جد و جہد ت شناخت کے عظیم مرکز ربوہ کی بنیاد پڑی اور تبلیغ اسلام کا کام پہلے سے بڑھ کر جوش سے ہونے لگ گیا اور اب اس نئے مرکز سے شب و روز اسلام کے مبلغ اور اس کے متاری بیرون پاک کا ان جا رہے ہیں اور کامیابی و کامرانی کے ساتھ واپس لوٹتے ہیں۔اور بیرونجات کی احمدی جماعتوں کے افراد مرکز میں پہن کر تانہ گیا ایمانی سے نشانات دیکھتے ہیں۔سیار نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ جب پاکستان پہنچے تو حضور نے ہجرت کے وقت کی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضر تشبیح موعود علیہ السلام لاہور میں فوت ہوئے اُس وقت میری شادی تو ہو چکی تھی