تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 455 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 455

الم مقامات پر جانکا خیال ہرزہ بھولنا نہیں چاہیئے۔وہاں ہار سے اسلاف کی بنائی ہوئی سجدی در مقابر ہیں۔انہیں یو نہی چھوڑ دنیا بے غیرتی ہے۔کہ ہمیں اُٹھتے بیٹھتے۔چلتے پھرتے ہر وقت وہاں جانے کیلئے تیار رہنا چاہیئے اور اس کیلئے ایک دوسرے کو تحریات کرتے رہنا چا ہیئے۔حضور نے مسلمانوں کے حق میں پیدا ہو نیوالے حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔اب سلمانوں پر ہونیو اسے درد ناک مظالم دنیا پر اتنے واضح ہو چکے ہیں کہ آئندہ انڈین یونین آسانی سے اس کا اعادہ نہیں کر سکتی۔اب اگر ایسا ہوا تو دنیا کے بڑے بڑے ممالک فور حالات کا جائزہ لینے کے لئے اپنے اپنے نمائندہ سے بھیج دیں گے اس سلسلے میں بھور نے یہ تجویز پیش فرمائی کہ کسی ایک ضلع کے سلمانوں کو تنظیم کے ساتھ واپس مشرقی پنجاب میں جانے کا فیصلہ کر نا چاہیئے۔پہلے انہیں دیگر ممال میں بھی اور انڈین یونین کے سامنے بھی یہ بات واضح کر دینی چاہیئے کہ دہ انڈین یونین کے وفادار رہیں گے۔لیکن برابر کے شہری حقوق میں گئے۔وہ صرف اپنی ذاتی جائدادوں پر جا کر قابض ہوں گے اور یہ کہ وہ بغیر ہتیار کے بجائیں گئے۔اور اگر وہ یہ امور واضح کر کے کسی معین تاریخ کو مشرقی پنجاب میں داخل ہو جائیں تو یقینا دنیا کے بہت سے ممالک کے نمائندے یہ دیکھنے کیلئے آجائیں گئے کہ انڈین یو میں ان سے کیسا برتاؤ کرتی ہے اور ان نمائندوں کی موجودگی میں حکومت آسانی سے کمانوں کے ساتھ ظلم کا برتاؤ نہیں کرسکتی۔حضور نے فرما یا کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق اپنے دشمن کے متعلق بھی دلوں سے کینہ اور بغض نکال دینا چاہیئے۔لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ تم حالات کو درست کرنے سے فاضل ہو جاؤ۔تمہیں اس وقت اطمینان کا سانس نہیں لینا چاہیئے بھتک کہ چالیس پچاس ہزارہ اغوا شدہ عورتوں کو واپس ان کے گھروں میں نہ پہنا دو۔یاد رکھو کہ مشرقی نیا کے گوشے گوشے سے مسلمان عورتیں تمہیں پکار پکار کر کہ رہی ہیں کہ اسے سلمانوں اگر تمہارے دل میں کچھ غیرت ہے تو آؤ اور ہمیں چھڑاؤ حضور نے انڈین یونین میں رہنے والے مسلمانوں کو بالعموم اور احمدیوں کو بالخصوص یہ مشورہ دیا کہ اب جبکہ پاکستان کے لیڈروں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو اور ہندوستان کے لیڈروں نے پاکستان کے غیرمسلوں کو اپنی اپنی حکومت کا دفادار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔یہ ضروری ہے کہ ہندوستان کے مسلمان جہاں کی ایسی سی کی پارٹیوں میں شامل ہو جائیں جن میں مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کرسکیں۔اس وقت انڈین یونین میں دو پارٹیاں ہیں۔ایک پارٹی مہا سبھا کی طرف ٹھیک رہی ہے۔اور دوسری پارٹی کا نگر کی ہے۔وہ چونکہ سالہا سال سے غیر مذ ہبی اور جمہوری پارٹی ہونے کا اعلان کرتی رہی ہے اسلئے وہ مجبوراً اب بھی جمہوری اور غیر فرقہ دار نہ پارٹی ہونے کا اعلان کر رہی ہے ان دونوں پارٹیوں میں سخت رستہ کشی ہو رہی ہے۔چونکہ اس وقت بظا ہر د داری پارٹی مزدور ہے۔گو وہ بر سر اقتدار ہے۔