تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 454 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 454

اکھ کو برا مرد بنایا گیا۔لیکن اس چیز تباہ کرنے والی بیوی ہوتی ہے۔اگر وصلہ اور امید قائم ہے تو یہ تعداد کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔اگر بیچاس کروڑ میں سے دس بارہ لاکھ نکل گئے تو اسے بھلا کیا فرق پڑ سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی مثال دیکھو۔کہ سات سوئی تعداد تک پہنچ جانے کے بعد وہ یہ کہتے تھے۔کہ اب کوئی طاقت نہیں تباہ نہیں کر سکتی۔اپنی مرنے یا جانداد کے نقصان کا سوال ہی نہیں ہے۔اصل چیز ایمان ہے۔اگر ایمان موجود ہے تو پھر اگر پچاس کروڑ نانو سے لاکھ مسلمان بھی مارے جائیں تو پھر بھی مسلمان مٹ نہیں سکتے۔وہ ضرور بڑھیں گئے اور ترقی کریں گے۔اور اگر یہ حالات خدا نے ہماری کسی غفلت کی بناء پر بطور سنران دارد کئے ہیں۔تو پھر بھی نہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ کوئی شخص بھی اپنے عزیز کو تباہ کرنے کے لئے مزا نہیں دیا کرتا۔بلکہ اسے ہوشیار کرنے کیلئے سزادیا کرتا ہے۔پس اگر سول کریم صلی اللّہ علیہ وسلم سچے ہیں اور سلام خدا کا نہ ہ ہے، تو پھر ہمیں یہ یقین رکھنا چاہیئے کہ یہ تکلیف ہمیں بیدار کرنے کیلئے دی گئی ہے۔نہ کہ تباہ کرنے کے لئے۔حضور نے جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔پس یہ غمگین اور رنجیدہ ہونے کا وقت نہیں۔تم بھول دوان چیزوں کو جودلوں کو افسردہ اور بہتوں کو پست کرنے والی ہوں۔اور یاد رکھو کہ دوس کی طرف سے ار سختی بھی ہوتو وہ بھلائی کے لئے ہوتی ہے نہ کہ سختی کے لئے۔اور اگر یہ نہ بھی ہو تو میں خدا سے ہم نے اب تک اتنے آرام محاصل کئے اور اتنے میٹھے تھے کھائے ہیں : ایک کڑور القمہ بھی دید سے تو کیا سورج ہے۔اگر ہم اس پر عمر امنائیں تو یہ ہماری ہی بڑی بے حیائی اور بے شرعی ہوگی۔کن وجوہ کی بناء پر یہ حالات پیدا ہوئے۔اصلی چیز جو ہمارے لئے قابل غور ہے یہ ہے کہ ہمارہ کی کن غفلتوں کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے اور اس کا علاج کیا ہے ؟ اس سلسلہ میں حضور نے تایاکہ تنظیم کی کی اور ہر وقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے مسلمان ربود ادیب رو پیر چھوڑ کہ آئے ہیں۔اگر وہ اپنی جائداد کا ایک فی صدی حصہ بھی اپنی اجتماعی حفاظت در تعلیم پر خرج کرتے تو یہ حالات کبھی پیدا نہ ہو تے حضور نے فرمایا۔اب مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اقل تومسلمانوں کو بھا گنا نہیں چاہیئے تھا۔لیکن اگر وہ بھاگتے بھی تو انہیں بجائے پاکستان کی طرف آپ نے کسے دہلی کی طرف جانا چاہیئے تھا۔اگر وہ ادھر رخ کرتے تو یقیناً موجودہ حالات پیدا نہ ہوتے۔بلکہ دہلی کے نواح میں مسلمانوں کی طاقت مجتمع ہور بھاتی۔اور چونکہ وہاں تمام بیرونی ممالک کے نمائندے موجود ہوتے ہیں۔اسلیئے حکومت دہلی کے قرب میں اس قسم کے حالات پیدا کرنے سے یقینا ہچکچاتی۔جیسے مشرقی پنجاب میں نمودار ہوئے۔کیونکہ اس سے اسکی بیرونی ممالک میں بدنامی ہوتی۔حضور نے مشرقی پنجا ہے آنیوالے احمدیوں کو بالخصوص اور عام سلمانوں کو بالعموم ی نصیحت فرمائی کہ انہیں واپس اپنے اپنے