تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 456 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 456

۴۵۲ است وہ مجبو ر ہے اس بات پر کہ اپنی طاقت کو دیگر عناصر کی مدد سے قائم رکھے۔پس میرے نزدیک مسلمانوں کو اس چلائی کا ساتھ دینا چاہیئے۔اسکے موجودہ فلم تعدی رک جائے گی اور آہستہ آہستہ طاقت کا توازن مسلمانوں کے ہاتھ میں آجائے گا۔پس میرا مشوره احمدیوں کو یہی ہے کہ انہیں اس پارٹی کا ساتھ دینا چاہیئے۔ہاں ایک دو ماہ وہ انتظار کر سکتے ہیں۔تاکہ ماسر محمد کمیل کو یہ انڈین سلم لیگ کی طلب کردہ کا نفرنس کے نتائج سامنے آجائیں۔اگر انہوں نے کوئی ٹھوس تجویز پیش نہ کی تو پھر سلمانوں کو کانگریس میں شامل ہو جانا چاہیئے۔اور نورا شامل ہو جانا چاہیئے۔ایک اور چیز جو فتنوں کو دبانے میں محمد ہوسکتی ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ نسادات میں انڈین یونین کی جو بدنامی ہوئی ہے اسکی وجہ سے وہاں کے بین الاقوامی شہرت رکھنے والے لیڈروں کے دار کو بھی بڑا صدمہ پہنچا ہے۔خصوصا چونکہ احمدی ہر علاقہ اور ہر ملک میںموجود ہیں اسلئے قادیان کے معامہ میں نئی بڑی بد نامی ہوئی ہے اور قادیان ان کیلئے بھڑوں کا ایک ایسا بھتہ ثابت ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کی حقیقت ساری دنیا میں گھل گئی ہے۔اس بد نامی کی وجہ سے انہیں کچھ کچھ ہوش آ رہی ہے اور انہیں سلمانوں کو دوبارہ اپنی اپنی جگہ بنانے کا احساس ہو رہا ہے۔حضور نے ہندوستان اور پاکستان میں بہنے والے احمدیوں کو تاکید فرمائی کردہ ہر حال اپنی اپنی حکومتوں کے وفادار رہیں۔بشر طیکہ ان کے مذہبی معاملات میں دخل نہ دیا جائے۔دونوں دو مینیوں کے احمدیوں کو اپنی اپنی حکومت کو مضبوط بنا نے کی پوری کوشش کرنی چاہیئے۔حضور نے اس تجویز کا بھی ذکر فرمایا کہ ہرسال ہم ایک ایسا دن منایا کہ بی جبکہ برادری مرد عورت یہ اقرانه کرے کہ وہ قادیان لیکر چھوڑیں گے۔اور اس کیلئے ہر مکن کوشش کریں گے۔اسی سلسلے میں دو کیٹیاں بنا رہ جائیں کی ایک ہندوستان کیلئے اور دوسری پاکستان کیلئے۔یہ کمیٹیاں اپنے ملکی حالات کے ماتحت پروگرام وضع کریں گی۔یہ گو یا سالمیں ایک دن ہوا کرے گا جبکہ قادیانی کا معاملہ ساری دنیا کی نگاہوں کے سامنے آجایا کر لیا۔اور اسٹرٹ یہ سوال اسوقت تک زندہ رکھا جائیگا جب تک کہ ہندوستان کی یونین قادیان ہمیں نہ دے دے۔یا خدا کسی اور رنگ میں اپنا فیصلہ صادر نہ کرے۔حضور نے دوران تقریر اس امرکی حدقت فرمائی کہ مشرقی پنجا کے بعض لوگ بجائے کام کرنے کے یونہی ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔اور حکومت کے خلاف شکایات کرتے رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اپنے مخفی جو ہروں کو کام میں لانا چاہیئے اور محنت کر کے خود کام کرنا چاہیئے۔یہ نہایت ذلیل ذہنیت ہے کہ ہم بجائے خود کام کرنے کے حکومت سے اپنی }